زرداری اور میری این نامی خاتون

نیب کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سامنے نیویارک کے اپارٹمنٹ کا ذکر نہیں کیا جس کے وہ مبینہ طور پر مالک تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے نگران ادارے نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے مین ہیٹن اپارٹمنٹ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں تمام متعلقہ ریکارڈ حاصل کرلئے ہیں۔

نیب نے آصف علی زرداری کی نیو یارک پراپرٹی  کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔ آصف زرداری کی نیو یارک پراپرٹی سے متعلق نیب نے تحقیقات تیز کردیں۔

اپارٹمنٹ جون 2007 کو خریدا گیا،قیمت 5 لاکھ 30 ہزار ڈالر طے ہوئی۔ آصف زرداری نے پاور آف اٹارنی میری این نامی خاتون کو تفویض کیا۔

احتساب بیورو کی تحقیقاتی ٹیم نے باہمی قانونی مدد (ایم ایل اے) کی درخواست کے ذریعہ امریکہ سے زیربحث املاک کی حالیہ ملکیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس نیویارک کے پراپرٹی رجسٹرار کے ذریعہ جاری کردہ فلیٹ کی پرانی دستاویزات موجود ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری کے پاس اس پراپرٹی کی ملکیت تھی ، جسے 20 جون 2007 میں 530،000 ڈالر میں خریدا گیا تھا۔

نیو یارک اپارٹمنٹ کیس

جولائی 7کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیو یارک اپارٹمنٹ کیس میں زرداری کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرلی تھی۔ آصف زرداری نے نیو یارک  پراپرٹی کیس میں 28 جولائی تک عبوری ضمانت لے رکھی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کے بنچ نے آصف علی زرداری کی ضمانت 28 جولائی تک 500،000 روپیوں کے گارنٹی بانڈز جمع کروانے سے مشروط کرتے ہوئے منظور کی تھی۔

عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو اگلی سماعت پر ان کی ضمانت کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کے لئے نوٹس بھی  جاری کیا تھا۔

آصف علی زرداری  نے ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقل کردی  تھی ،جب بیورو کی جانب سے ان کے بیلئیر اپارٹمنٹ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے سوالیہ نوٹس  جاری کیا گیا تھا۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ پراپرٹی کے حصول کے لئے آپ کی طرف سے پاکستان سے کسی بھی طرح کی قانونی ترسیلات زر ظاہر نہیں کی گئیں۔

اس کے پیش نظر آپ سے گزارش ہے کہ سوالنامےسے منسلک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہر نیو یارک میں واقع اپارٹمنٹ سے متعلق معاون معلومات / دستاویزات ،تفصیلی جوابات کے ساتھ فراہم کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button