شیعہ قائدین کا حکومتی پابندیاں ماننے سے انکار

این سی او سی نے ہفتے کو ہونے والے اجلاس میں، 4 مئی رمضان 21 کو یوم علی کے لئے جلوسوں پر پابندی عائد کردی ہے ، ملک بھر اور خاص طور پر بڑے شہری مراکز میں جاری کورونا کیسز کے اضافے کی وجہ سے ، خطرے کے عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ہر طرح کے جلوسوں پر پابندی عائد کی جائے جبکہ مجلس کے انعقاد کی اجازت کورونا ایس ا و پیز کے ساتھ دی گئی ہے جو پہلے سے موجود ہے ۔

حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پچھلے سال 15 مئی کو بھی ایسا ہی فیصلہ لیا تھا۔ یوم علی پر صبح 6 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کا حکم دیا گیا، وفاقی حکومت نے بھی جلوسوں پر پابندی عائد کردی ہے، لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے جلوس کے راستوں کو کنٹینروں سے سیل کردیا ۔

اتوار کے روز کراچی میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے رہنماؤں نے کہا کہ شیعہ برادری نے حکومت کی جانب سے عزاداری کے خلاف اعلان کردہ تمام پابندیوں کو مسترد کردیا۔

زیدی نے کہا کہ حکومت کوویڈ ۔19 کی روک تھام کے لئے ایس او پیز کو نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے لیکن کسی بھی برادری کی مذہبی سرگرمی پر پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں ہے، انہوں نے رمضان 19 سے 21 تک شیعہ مذہبی جلوسوں اور سوگ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی بھی مذمت کی۔

Back to top button