ماہرہ خان بھارت میں کام کرنے سے خوفزدہ کیوں؟

پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے کہا ہے کہ انہیں ماضی میں  بھی بہت سی ہندوستانی ویب سیریز کی پیش کش ہوئی تھی لیکن اداکارہ نے خوف کے مارے  کہ لوگ کیا کہیں گے،انہیں قبول نہیں کیا۔

ماہرہ جنہوں نے 2017 میں  فلم رئیس کے ساتھ بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا ، انہوں نے بھارتی فلمی صنعت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے بارے میں کھل کر بتایا۔

سنہ 2016 میں راج ٹھاکرے کی پارٹی  مہاراشٹر انو  نرمن سینا (این این ایس) کے سینیما ونگ کے صدر  امیا کھوپرکےنے اُڑی  میں دہشت گردی کے حملے کے بعد بالی ووڈ فلموں میں پاکستان سے اداکاروں کے کاسٹ کرنے پر اعتراض کیا تھا۔

 اسی لیے مائرہ نے رئیس کی ہندوستان میں تشہیری مہم  میں شرکت نہیں کی  تھی۔

کرن جوہر کی  فلم اے دل ہےمشکل کی ریلیز میں  بھی پاکستانی اداکار فواد خان کی موجودگی کی وجہ سے اکتوبر 2016 میں  نو نرمن سینا پارٹی  نے شدید مظاہرہ کیا تھا۔

 بھارتی فلمی صحافی انوپما چوپڑا سے اس پابندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرہ نے کہا ، ” بھارت میں کام کاتجربہ اچھا رہا تاہم کچھ  وجوہات کی بناء پر اب مجھے آفرز سے منع کرنا پڑرہا ہے  ،یہ افسوسناک ہے”۔

ماہرہ خان کی وضاحت

مجھے انڈیا سے کافی  آفرز آرہی ہیں  اور کانٹینٹ پسند آنے کے باوجود میں کام نہیں کرسکتی،کیونکہ کچھ لوگوں کو اس سے پریشانی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پورے برصغیر کے اکٹھے ہونے اور باہمی تعاون کا ایک بہت بڑا موقع ضائع ہو رہا ہے۔

ماہرہ  جو آنے والی زی 5 سیریز میں ایک مختصر کہانی بیان کریں گی  ،انکا  کہنا ہے کہ انہیں دوسرے ڈیجیٹل پروجیکٹس کے لئے آفرزملیں لیکن انھوں نے انکار کردیا۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ آفرکی جانے والی سیریز  میں حیرت انگیز کانٹینٹ ہے  اور وہ سیاسی باتوں کی وجہ سے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتیں۔

ماہرہ خان کے اس بیان کے بعد   ہندو انتہا پسند جماعت نو نرمن سینا کے سینیما ونگ کے صدر  امیا کھپر کےنے دھمکی دی ہے کہ وہ مہاراشٹر سمیت ملک کے کسی حصے میں پاکستانی اداکاروں کو کام نہیں کرنے دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button