کدھر ہے نیا پاکستان

وزیر اعظم   عمران خان نےجمعہ کے روز اسلام آباد میں لودھراں سے ملتان ہائی وے اپ گریڈیشن اور بحالی منصوبے کی افتتاحی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر  اپوزیشن کی جماعتوں پر تنقید کی ، انہوں نے کہا کہ جو خود کو جمہوری    موومنٹ کہتے ہیں وہ حکومت گرانے کے لئے فوج کی مدد کے خواہاں ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ طویل جدوجہد کے بغیر ملک میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی،انکا کہنا تھا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو لوگوں نے ایک ہفتے بعد سے ہی سوال کرنا شروع کردیا کہ   کدھر ہے نیا پاکستان؟ ، یہانتک جب سے ہماری حکومت (اقتدار میں) آئی ہے اپوزیشن چیخ رہی ہے کہ  حکومت  ناکام ہوچکی  ہے،تو ہم یہ ڈھائی سال سے تھوڑا زیادہ کا عرصہ بڑے صبر کے ساتھ گزارا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ساری جدوجہد سے  ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ تبدیلی ایک دم نہیں آتی بلکہ اس کے  پیچھے ایک طویل جدو جہد ہوتی ہے ۔

میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ ترقی کوئی  ایسی چیز نہیں ہے جو راتوں رات آتی ہے ، اور نہ ہی یہ کوئی  جادوئی چیز ہے جو چھڑی گھما کر حاصل ہوجائے۔

قائداعظم محمد علی جناح کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عظیم قائد کو اب جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس کے لئے بہت جدوجہد کرنا پڑی،یہاں تک کہ وہ بعض اوقات مایوس ہوئے اور انگلینڈ چلےگئے۔ لیکن وہ واپس آئے اور پاکستان کے لئے سخت جدوجہد کی ۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان کی حکومت انہی پالیسیوں کو زندہ کررہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان ایشیاء کی چوتھی سب سے بڑی معیشت تھا۔

مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری

انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو مناسب مراعات دی گئیں ہیں ، جس کے نتائج ریکارڈ فصلوں کی پیداوار  کی صورت میں نظر آئے،جب کسانوں کو مراعات دی جاتی ہیں تو وہ کاشتکاری میں سرمایہ کاری کرتے ہیں نہ کہ وہ لندن میں اپارٹمنٹس اور مکانات خریدتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران نے مزید کہا کہ کسی بھی سابقہ ​​حکومت نے پاکستان کی ترقی کے بارے میں نہیں سوچا ۔ انہوں نے صرف اس بات پر فوکس کیا کہ اگلے انتخابات میں کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ”پاکستان میں 50 کلو میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور اس مقصد کے لئے 10 ڈیم تعمیر کیے جارہے ہیں۔

عمران خان نے بتایاکہ موجودہ حکومت نے آب و ہوا کی تبدیلی کا چیلنج بھی اٹھایا ہے ، تاکہ آنے والی نسل ملک میں گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رہے۔

سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ بہت ساری صلاحیتوں کے باوجود ماضی میں یہ شعبہ بھی نظرانداز رہا ہے۔

سیاحت کی صنعت

انہوں نے کہا کہ”اگر لوگ لندن میں اپنی تعطیلات اور عیدیں گزاریں گے تو انھیں کیسے پتہ چلے گا کہ پاکستان کو کس قدر خوبصورتی سے نوازا گیا ہے ۔ہم سیاحت کی صنعت کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کے ذخائر میں بہتری آئے گی،پاکستان کے لئے بدترین وقت ختم ہوچکا ہے اور اب ترقی کا وقت آ گیا ہے۔تعمیراتی صنعت بھی عروج پر ہےاور اس کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں بھی  بھر پور آگے بڑھ رہی ہیں۔حکومت کی ’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم‘ بھی بڑھ رہی ہے ، کیونکہ عدالتوں کے ذریعہ پیشگی ادائیگی کے قانون کو کلیئر کردیا گیا  ہےاور بینک اب افراد کو قرض دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ”جب تعمیراتی صنعت میں تیزی آئے گی تو مزید ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ "آنے والے دنوں میں ، میں اپنے لوگوں کو مزید خوشخبری دوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button