امن کے لئے امریکہ کے ساتھ ہیں جنگ میں نہیں

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز موقف اختیار کیا کہ ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یہ واضح پیغام دیا جائیگا کہ پاکستان امن کے لیے امریکہ کا شراکت دار ہوسکتا ہے مگر جنگ میں کبھی امریکا کا حصہ دار نہیں بن سکتا ہے ۔

وزیر اعظم نے اپنے طویل خطاب کے دوران قومی اسمبلی کے فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ امریکہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ افغانستان میں کوئی فوجی حل نہیں نکل سکتا ، تو اب پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کہہ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ، لیکن ہم افغانستان میں اسٹریٹجک گہرائی نہیں چاہتے ہیں اور وہاں کوئی بھی زبردستی کی حکومت نہیں چاہتے ہیں اور ہم افغان عوام کے فیصلے کا احترام کریں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کو اپنے اڈے دے گا لیکن پاکستان اپنی ملکی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔ کیا امریکہ نے ماضی میں ہماری تعریف کی یا ہمارے تعاون کو تسلیم کیا؟ اس کے بجائے ان نے کے پاس ہر قوم کے لیے دوہرے معیار ہیں ۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اس وقت کی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بن جائے گا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ، کیا کوئی بھی قوم اپنے 70،000 لوگوں کی قربانی دے سکتی ہے اور جنگ زدہ بھائیوں کی خاطر 150 بلین کا نقصان برداشت کر سکتی ہے ۔

ایوان میں وزیر اعظم کے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری ، شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور اسد محمود سمیت اپوزیشن ڈیسک پر اہم پارلیمنٹیرین موجود نہیں تھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button