وقوف عرفہ اور رمی

اتوار کے روز  حجاز مقدس میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی گئی۔مسجد نمرہ میں امام کعبہ نے خطبہ حج دیا ۔

خطبہ حج میں مسجد  الحرام کے امام شیخ بندر بن عبد العزیز بلیلانے لوگوں کو وبائی امراض سے متعلق پیغمبر اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس جگہ پر نہ جائیں جہاں طاعون ہے۔

شیخ بندر نے کہا ، "حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کو اس علاقے سے باہر نہیں جانا چاہئے جہاں طاعون پھیل گیا ہے اور دوسرے علاقوں کے لوگ  بھی وہاں نہیں جائیں۔

خطبہ میں شیخ بندر نے مسلمانوں پر مساوات قائم کرنے ، ایک دوسرے کے درمیان دشمنی اور نفرت کو ختم کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے سب کو اللہ کی خاطر ایک دوسرے کو معاف کرنے کا کہا۔

امام کعبہ نے خطبہ  حج میں تاکید کی کہ لوگوں کہ ساتھ احسان اور صلہ رحمی کا رویہ رکھیں۔احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

احسان کا معاملہ

اللہ نے جو احکامات انسان کو دیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اللہ کی مخلوقات پر مختلف انداز اور صورتوں میں احسان کا معاملہ کرے۔

اللہ کی طرف دعوت دینے کے عمل میں بھی احسان کا معاملہ کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ ۔ انہوں نے عازمین سے کہا کہ وہ اس موقع پر اپنے قرابت داروں ،حکمرانوں اور اہل ایمان کے لیے  بکثرت دعائیں کریں۔

دوسری جانب پیر کے روز حج کا  رکن "رمی” (شیطان کو کنکر مارنے)کی ادائیگی کی گئی۔اس موقع پر بھی کورونا ایس ا  و پیز  کا اہتمام کرتے ہوئے  حجاج کو سینیٹائز کنکریاں فراہم کی گئیں۔

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ کا کہنا ہے کہ  "شروع سے ہی ہماری ترجیح حجاج کرام کی حفاظت ہے ، اور اسی وجہ سے ہم نے ان کی تعداد کو 60،000 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا  تھاتاکہ احتیاطی تدابیر کو نافذ کیا جائے اور ہر کوئی محفوظ رہے”۔

انہوں نے پیر کے روز کہا کہ  ہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ حجاج میں ابھی تک کورونا وائرس کا ایک کیس بھی نہیں پایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button