فلسطین میں دوبارہ بحالی کے لیے امریکہ کی امداد

اسرائیل کی وحشیانہ بمباری  کے عینی شاہدین نے بتایا کہ   11 روز تک جاری بمباری کے  دوران اسرائیل  کے فضائی حملوں نے   رہائشی علاقوں  کو نشانہ بنایا۔

غزہ کی وزارت ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ 1،500 رہائشی  یونٹ تباہ ہوچکے ہیں ،  1،500 کو بدترین  نقصان پہنچا ہے اور 18،000 جزوی طور پر  متاثر ہوئے ہیں جن کی مرمت جاری ہے ۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ  اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں کم از کم 274 افراد شہید اور 2،100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔

اسرائیلی حملوں نے غزہ کے نظام زند گی کو مکمل تباہ کردیا ہے،ہسپتال ،کاروبار اور انفراسٹرکچر   بھی بمباری کی نذر ہوگئے ہیں۔

غزہ کی پٹی  پر واقع قصبہ بیت لاہیا میں خیموں نے  گھروں  کی جگہ لے لی ہے ، جہاں اسرائیل کے شدید فضائی حملوں نے متعدد خاندانوں کو بے گھر کردیا تھا  ،  وہاں  اب امید کی جارہی ہے  کہ جلد ہی تعمیر نو کا کام شروع ہوجائے گا۔

غزہ میں موجود فلسطینیوں کو 11 دن کی   اسرائیلی بمباری نے بے گھر اور بے سرو سامان کردیا ہے  لہذا  مصر اور قطر  میں سے  ہر ایک نے فلسطیننیوں کی امداد کے لیے  $ 500 ملین مختص کرنے کا وعدہ کیا۔

امریکہ نے بھی گزشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے اور فلسطینیوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button