عمران خان کا اقوام متحدہ میں 10 نکاتی ایجنڈا

پیر کو اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیاء اینڈ پیسیفک (اقوام متحدہ – اسکاپ) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کلیدی مقرر کے طور پر ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔

اسکاپ کا سترہواں اجلاس 26 سے 29 اپریل تک”ایشیا اور بحر الکاہل میں علاقائی تعاون کے ذریعہ بحرانوں سے بہتر طور پر نمٹنے” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، جاری اجلاس میں کم ترقی یافتہ ممالک میں پائیدار ترقی کے لئے 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔

یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کیا، اقوام متحدہ کے ذریعہ اعلان کردہ مقررین کی فہرست کے مطابق ، افغان صدر اشرف غنی ، بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ، سری لنکا کی وزیر اعظم مہندا راجا پاکسہ ، تاجکستان ، ترکمنستان ، ازبکستان ، منگولیا کے صدر اور اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے صدر منیر اکرم اسکاپ سیشن کے مقررین میں شامل ہیں۔

پیر کو اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برا ئے ایشیاء اینڈ پیسیفک (اقوام متحدہ – اسکاپ) کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے فوری کاروائی کے لئے 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ، جس میں بین الاقوامی برادری کو کوڈ 19 وبائی امراض کو شکست دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کی۔

وزیر اعظم عمران خان کی فہرست میں پہلی چیز کم آمدنی والے اور سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لئے وبائی بیماری کے خاتمے تک قرض معطلی کی درخواست تھی۔

دوسری تجویز انتہائی کم ترقی یافتہ ممالک کے قرضوں کی منسوخی ہے جو اب اپنے قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ایجنڈے کا تیسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہم متفقہ کثیر جہتی فریم ورک کے تحت دوسرے ترقی پذیر ممالک کے عوامی شعبے کے قرض کی تنظیم نوکے لیے معیشت کا حصہ مختص کریں۔

چوتھے کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں کے ذریعہ کم آمدنی والے ممالک میں مراعاتی مالی اعانت میں توسیع کریں۔

پانچواں ایک نئی ’لیکویڈیٹی اینڈ پائیداری سہولت‘ کا قیام ، جو کم لاگت پر قلیل مدتی قرضے فراہم کرے۔

ایجنڈے میں چھٹا نکتہ یہ تھا کہ دولت مند ممالک کو اپنی سرکاری ترقیاتی امداد کے وعدوں کا 0.7 فیصد پورا کریں۔

ریاستیں پائیدار انفراسٹرکچر میں مطلوبہ 1.5 ٹریلین ڈالر سالانہ سرمایہ کاری کو متحرک کریں۔

وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی عمل کے نقصانات سے بچنے کے لیے ہر سال  بلین100 درخت لگانے کے متفقہ ہدف کو پورا کرے۔

انہوں نے ترقی پذیر ممالک سے بڑے ممالک میں غیر قانونی مالی اخراج کو روکنے اور غیر ملکی ٹیکسوں کی پناہ گاہیں بھی بند  کرنے کے لئے فوری اقدام اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا ۔ مسٹر خان نے بدعنوان سیاستدانوں اور مجرموں کے چوری شدہ اثاثوں کو فوری طور پر ان ممالک میں واپس کرنے کی بھی تجویز پیش کی

Back to top button