کراچی انکروچمنٹ آپریشن پر اقوام متحدہ کی تشویش

سپریم کورٹ کے احکامات پر کراچی میں بڑے پیمانے پر تجاوزات کو مسمار کرنے کا آپریشن جاری ہے  جسکے تحت پی ایس  ایچ بلاک 6 کی ریلوے کالونی میں آج صبح آپریشن شروع ہوا ۔آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مشتعل افراد نے  عملے پر پتھراؤ کیا  اور فائرنگ کی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ آپریشن اچانک شروع کیا گیا لوگوں کو اپنا  ضروری سامان منتقل کرنے کے لیے بھی وقت نہیں دیا گیا۔

جبکہ دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد عاصمہ بتول کے مطابق پتھراؤ اور فائرنگ کے باوجود آپریشن جاری رکھا گیا۔

کراچی کے گجر اور اورنگی ٹاؤن نالے کے ا طراف لوگوں کو بے گھر کیے جانے پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کردیا۔

اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی  حقوق کے ماہرین  کا کہنا ہے کہ کراچی کے  برساتی نالوں کو چوڑا کرنے کے لیے  لوگوں کی بے دخلی کو فورا ً روکا جائے۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے ایک لاکھ  لوگ بے گھر ہوسکتے ہیں اور ایسا ہوا تو غربت میں مزید اضافہ ہوگا،مسماری سے پہلے  مکینوں سے مشاورت کی  گئی  نہ ہی انہیں کوئی متبادل دیا گیا اور نہ  مسماری کے بعد کوئی معاوضہ دیا گیا۔

شہریوں کو اتنے بڑے پیمانے پر  بے دخل کرنے کی قانونی وجہ غیر واضح ہے،نالوں کی صفائی سے اب تک ساڑھے 65 ہزار لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔اقوام  متحدہ کے ماہرین نے سپریم کورٹ کے فیصلےپر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button