سعودی حکومت کی عمرہ شرائط

عمرے کا  ارادہ رکھنے والے افراد تیاری پکڑ لیں اور ساتھ ساتھ سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ شرائط و ضوابط کو بھی اچھی طرح پڑھ اور سمجھ لیں۔

سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 10 اگست سے بیرون ملک  مسلمانوں  کےلیے عمرہ کا دوبارہ آغاز کیا جارہا ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مسجد الحرام عمرے اور نماز کی ادائیگی کے لیے بلکل تیار ہے۔

تاہم حج سیزن کے اقدامات کی طرز پر  عمرے کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی  تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

حرمین شریفین کی ویب سائٹ پر جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ عمرے پر آنے والوں کے لیے فائزر،موڈرنا،آسٹرازینیکا اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لگی ہونی چاہیے۔

ان ویکسینز کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں کو ہی عمرے پر آنے کی اجازت ہوگی۔نیزاس اجازت کے ساتھ ہی 9 ملکوں کے لیے امتیازی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

پاکستان اور بھارت سمیت 9 ممالک کے شہریوں کو  سعودی عرب آنے سے پہلے کسی تیسرے ملک میں 14 دن کا قرنطینہ کرنا ہوگا۔

گزشتہ سال فروری میں کورونا وبا کے پیش نظر  بیرون ملک  مسلمانوں کے لیے  عمرے کی ادائیگی پر پابندی لگادی تھی۔تاہم 6 ماہ بعد اکتوبر 2020 میں  سعودی حکومت نے ملک میں موجود غیر ملکی شہریوں کو  عمرے کی اجازت دے دی تھی۔

سعودی ادارہ شماریات کے مطابق کورونا وبا کے باعث گزشتہ برس سے عمرہ زائرین  کی تعداد میں 70 فیصد کمی کی گئی۔واضح رہے عمرے کے علاوہ ہر سال تقریبا ً 25 لاکھ افراد  حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

لیکن کورونا کی وجہ سے  گزشتہ برس صرف 10 ہزار افراد کو حج کرنے کی اجازت ملی۔رواں برس کچھ اضافے کے بعد یہ تعداد 60 ہزار کی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button