ترکی میں مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا گیا

صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا ہے کہ ترکوں کو جمعرات سے شروع ہونے والے ملک بھر میں "مکمل لاک ڈاؤن” کے تحت زیادہ تر گھر پر ہی رہنے کی ضرورت ہے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ  میں آنے والی تیزی اور اموات میں اضافے کو روکنے کے لئے 17 مئی تک مکمل  لاک ڈاؤن میں رہنا ہوگا۔

یہ فیصلہ پیر کو گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ترکی میں 37،312 نئے کوویڈ 19 کیسز اور 353 اموات ریکارڈ ہونے کے بعد کیا گیا، ترکی کی وزارت صحت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ اپریل کے وسط کے مقابلے میں کیسز کی یہ شرح کم ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں یہ چوتھے نمبر پر ہے۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد پیر کے روز نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ انٹرسٹی کے تمام سفروں کے لئے سرکاری منظوری درکار ہوگی ،انٹر سٹی ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کو لے جاسکے گی ،تمام اسکول بند اور سبق آن لائن ہوں گے ، امتحانات معطل اور پبلک ٹرانسپورٹ کے صارفین کے لئے اجازت ملنے کی ایک سخت حد نافذ کردی جائے گی۔

ضروری خریداری کے لیے نکلنے اور فوری طبی امداد کے علاوہ ترکوں کو گھر کے اندر ہی رہنا پڑے گا۔ کھانے پینے اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ایمرجنسی سروس کے کارکنوں اور ملازمین سمیت کچھ گروپس کو مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ ایسے وقت میں جب یورپ دوبارہ کھلنے کے مرحلے میں داخل ہورہا  ہے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر اپنے کیسز کی تعداد کو تیزی سے کم کرکے 5000 تک لانے کی ضرورت ہے ، بصورت دیگر ، ہم سیاحت سے لے کر تجارت اور تعلیم تک ہر شعبے میں لامحالہ بھاری نقصانات کا سامنا کریں گے۔

یہ نئی پابندیاں جنوری کے وسط میں  ویکسینیشن کے عمل کی ایک تیز شروعات کے بعد اب ترکی کی اب ویکسینیشن  شیڈول کافی  مندی کا شکار ہوگئی ہے۔

ترکی نے آٹھ ملین لوگوں کو  ویکسینیشن کے دو جاب مہیا کیے ہیں اور وہ چین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ 100 ملین خوراکوں کا معاہدہ کرنے کے بعد سینوواک کی کورونا ویکسین کی فراہمی کو تیز کرے۔ ترکی کو فائزر بائیو ٹیک ویکسین  کی پہلی ترسیل بھی موصول ہوچکی ہے اور روس نے مقامی طور پر اسپوتنک وی کی تیاری شروع کرنے کے لئے معاہدہ کیا ہے۔

Back to top button