آج بجٹ 2022-2021 آرہا ہے

وزیر خزانہ شوکت ترین آج  وفاقی بجٹ پیش کریں گے،تجاویز کی منظوری اور نامنظوری  کے لیے حتمی فیصلے بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے  وفاقی کابینہ  کے اجلاس میں ہوں گے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال برائے 2022-2021کا بجٹ  تقریباً 8 ہزار ارب روپے کاہےجبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جورواں مالی سال  کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی ملکی ترقیاتی بجٹ کا حجم2 ہزار 1 سو 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے تاہم سول حکومت کے لیے 510  ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جو رواں مالی سال 488 ارب روپے تھا۔

مزید براں ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کا حجم 5ہزار 7 سو 5ارب روپے رکھا جارہا ہے،دفاع کے لیے 35 ارب روپے اضافے  کے ساتھ 1ہزار 330ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہےجبکہ رواں سال دفاعی بجٹ کا حجم 1ہزار  2سو 95 ارب روپے تھا۔

قرض اور اس پر سود کی ادائیگیوں کے لیے3 ہزار 1 سو پانچ ارب روپے مختص کیے  جانے کی تجویز ہے،رواں سال اس مد میں 2ہزار 9 سو 20 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

ریٹائر سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 10 ارب روپے اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے  مختص کرنے کی تجویز ہے ۔

مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 501 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے،رواں سال اس مد میں 400 ارب روپے مختص تھے۔

سبسڈی کا30 فیصد پاور سیکٹر  کے لیے ہے،ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں چاروں صوبوں ،گلگت بلتستان ،کشمیر اور مختلف وفاقی اداروں کے لیے994 ارب روپے کی گرانٹس جاری کیے جانے کی تجویز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button