ٹک ٹاک کا پاکستانی حکام سے رابطہ

ٹک ٹاک نے جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایپ پر عائد معطلی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ ہماری کمیونٹی کی طرف سے پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے مواد پر نظرثانی اور کارروائی کرنے کے لئے کام کر رہی ہے ۔

ٹک ٹوک نے ایک بیان میں کہا ، کے ہمارے یوزرز کی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبے نے پورے پاکستان کے گھرانوں میں خوشی پیدا کی ہے اور ٹک ٹاک نے ناقابل یقین حد تک باصلاحیت تخلیق کاروں کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا ، کے ہم نے پاکستان کے لیے انکی مقامی زبان میں اعتدال پسندی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے ، اور ہم اب معاشرتی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے مواد پر نظرثانی کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کے لیے تیزی سے کام کریں گے ۔

ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی لگی ہوئی ہے ، مگر انکا کہنا ہے کے ہم ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور پاکستان میں لاکھوں ٹِک ٹاک صارفین اور تخلیق کاروں کی خدمت کے منتظر ہیں جنہوں نے کئی سالوں بعد ایک اچھا تخلیقی صلاحیتوں ، تفریحی اور اہم معاشی مواقعوں کے لئے پلیٹ فارم تلاش کیا ہے ۔

ایس ایچ سی نے ، اس ہفتے کے شروع میں ، ملک میں اس پر عائد پابندی ختم کرنے کے تقریبا تین ماہ بعد دوبارہ اس ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک کو پورے پاکستان میں 8 جولائی تک معطل کرنے کا حکم دیا تھا ۔

یہ فیصلہ درخواست گزار کے ایس ایچ سی میں یہ بیان دینے کے بعد آیا ہے اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی کیونکہ پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی گئی کچھ ویڈیوز انتہائی غیر اخلاقی اور اسلام کی تعلیمات کے منافی تھیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button