امریکہ پاکستان میں اڈے حاصل کرنے کا خواہاں

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے پاکستانی فوج کے ساتھ انٹلیجنس اور سفارتی چینلز میں بات چیت کی ہے ،تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان دوبارہ دہشتگردوں کا گڑھ نہیں بنے گا جہاں سے امریکہ میں امن کو تباہ کیا جائے۔ ٹولو نیوز ڈاٹ کام نے اس کے بارے میں تفصیلات  جاری کیں ۔

سلیون نے یہ ریمارکس پیر کو ایک پریس بریفنگ میں پاکستان میں ڈرون اڈے بنانے کے لئے امریکہ کی رضامندی کے سوال کے جواب میں دیئے۔

سلیو ن کا کہنا تھا ہم نے امریکہ کی پر امن صلاحیتوں کے مستقبل کے بارے میں پاکستان کے ساتھ فوجی ، انٹلیجنس ، اور سفارتی چینلز میں تعمیری بات چیت کی ہے ،تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان دوبارہ کبھی بھی ایسا اڈہ نہیں بنے گا جہاں سے القاعدہ یا داعش یا کوئی دوسرا دہشت گرد گروہ امریکہ پر حملہ کرسکے۔

سی آئی اے کے تجزیہ کار

نیویارک ٹائمز نے اس ہفتے  اتوار کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ سی آئی اے ملک میں انٹلیجنس جمع کرنے ، جنگ لڑنے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو برقرار رکھنے کے لئے طریقے تلاش کر رہی ہے اور سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے طالبان کے قبضے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے وہاں مغربی پہاڑوں پر ایک اڈے کو  عسکریت پسندوں کے خلاف سینکڑوں ڈرون حملوں کے لیے  استعمال کیا تھا ، لیکن اسے اس سہولت سے 2011 میں  نکال دیا گیا تھا ، جب امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تھے ۔

اب کسی بھی معاہدے کو اس تکلیف دہ حقیقت کے  ساتھ دوبارہ جوڑنا  ہوگا کہ پاکستان کی حکومت نے طویل عرصے سے طالبان کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم افغانستان چاہتا ہے لیکن کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جو یہ نہیں چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی فوجی دستوں کی واپسی کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا پاکستان کو  اس مسئلے کا حصہ نہیں مانتی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستانی اڈے نہیں دیئے جائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے ٹھوس انداز میں واضح کیا کہ اڈوں کی تلاش ان کی خواہش ہوسکتی ہے۔ انہیں اڈے دینے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ہمیں  اپنے مفادات دیکھنے ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button