طالبان طاقت کے زور پر کابل پر قابض ہو جائینگے

واشنگٹن : امریکہ نے طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا افغانستان میں طاقت کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ انٹلیجنس رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد کابل میں موجودہ سیٹ اپ چھ ماہ کے اندر ہی ٹوٹ سکتا ہے اور طالبان قابض ہو سکتے ہیں ۔

واشنگٹن میں منگل کی سہ پہر کو نیوز بریفنگ میں ، محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اشارہ کیا کہ افغانستان کے لئے امریکی مالی مدد صرف اسی صورت میں جاری رہ سکتی ہے جب اس ملک میں جمہوری حکومت بنتی ہے جسے سبھی تسلیم کرتے ہیں ۔

مسٹر پرائس نے کابل حکومت کے خلاف طالبان کی فتوحات کے بارے میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ، دنیا افغانستان میں کسی حکومت کو طاقت سے مسلط ہونے پر قبول نہیں کرے گی ۔ یہی بات سفیر زلمے خلیل زاد نے بھی کہی ہے ۔

اس سے قبل بریفنگ کے دوران ، ایک صحافی نے مسٹر پرائس کو یاد دلایا کہ عسکریت پسندوں نے افغانستان میں اپنے کنٹرول کو 50 سے زائد اضلاع تک بڑھا دیا ہے جب سے صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا ہے ۔

مسٹر پرائس نے کہا کہ ، کسی بھی افغان حکومت کے لئے قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ حکومت انسانی حقوق کا احترام کرے گی ، اگر اس حکومت کے پاس اچھی ساکھ ہوگی ، اگر اس حکومت کے پاس قانونی حیثیت ہوگی ، بشمول اپنے لوگوں کی نظر میں وہ قبل احترام ہوگی ۔

امریکہ گذشتہ سال 35.5 بلین ڈالر خرچ کرکے سب سے بڑا امداد دینے والا ملک ہے ، اس کے بعد بالترتیب جرمنی (28.4 بلین ڈالر) ، برطانیہ (18.6 بلین ڈالر) ، جاپان (16.3 بلین ڈالر) اور فرانس (14.1 بلین ڈالر) خرچ کر چکے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button