غلاف کعبہ تبدیل کردیا گیا

نماز فجر سے قبل غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی جہاں درجنوں  ماہر کاریگروں نے پرانے غلاف کعبہ کو احتیاط کے ساتھ نئے غلاف کعبہ سے تبدیل کیا ۔

غلاف کعبہ کی تبدیلی کا مبارک  عمل ہر سال حج کے موقع پر وقوف عرفہ کے دن ہوتا ہے۔

غلاف کعبہ تیار کرنے والی کسوہ فیکٹری 1927 میں سعودی عرب کے فرمان روا شاہ عبدالعزیز کے حکم سے قائم کی گئی تھی۔

کسوہ کارخانے  میں سال بھرمیں 200 ماہر کاریگر غلاف کعبہ کو تیار کرتے ہیں۔

غلاف کعبہ میں 670 کلو گرام خالص ریشم،120 کلو گرام سنہری دھاگہ اور 100 کلوگرام چاندی کا دھاگہ استعمال کیا گیا ہے۔

غلاف کے نچلے حصے میں چھ ٹکڑے اور 12 قندیلیں شامل ہیں خالص ریشم کے سیاہ غلاف پر سنہری اور چاندی کے دھاگے سے آیات قرآنی اور مقدس کلمات منقش کیے گئے ہیں۔

نیا غلاف کعبہ

گزشتہ رات نیا غلاف کعبہ مسجد الحرام میں پہنچایا گیا جہاں ماہر کاریگروں نے پرانے غلاف کو اتارا اور احتیاط کے ساتھ نئےغلاف  سےتبدیل کردیا ۔

دوسری جانب مناسک حج آ آغاز ہوچکا ہے۔60 ہزار عازمین حج آج منیٰ میں قیام اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔

طواف قدوم کے بعد سلسلہ وار عازمین کو مسجد الحرام سے منی پہنچانے کا کام آخری مراحل میں داخل ہوگیا۔

منی میں عازمین کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔

جگہ جگہ سینیٹائیزیشن کی جارہی ہے۔عازمین عرفات جائیں گے اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔

اس بارعازمین کو منی سے میدان عرفات اور مزدلفہ  خصوصی بس سروس کے ذریعے لے جایا جائے گا ،پیدل جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا جائے گا جو دس زبانوں میں نشر ہوگا۔اس بار سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی حج کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال کورونا کے باعث صرف سعودیہ عرب کے 60 ہزار رہائشی ہی حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button