شکار پور میں ڈاکوؤں کا راج ختم

شکار پور کے کچے  کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں تیزی آگئی ، آپریشن میں 200 پولیس کمانڈوز سمیت 700 سے زائد اہلکار شریک  ہو رہے ہیں۔

آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے گرا کر آگ لگادی گئی،پولیس کے مطابق اب تک 13 مغویوں میں سے 9 کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کشمور اور سکھر  میں بھی کچے کے حدود میں ڈاکوؤں کے خلاف  آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

ایس ایس پی شکار پور کاکہناہے کہ  علاقے کوڈاکوؤں سے کلیئر کرانے تک آپریشن جاری رہے گا،اب تک ڈاکوؤں کے 220 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں ۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران دو پولیس اہلکار اور ایک فوٹو گرافر شہید ہوئے جبکہ 6 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں ۔

پولیس نے بھی ڈاکوؤں کے خلاف جدید اسلحے کا استعمال شروع کردیا ہے اور مزید بکتر بند گاڑیاں  شکار پور اور کشمور پہنچا دی گئی ہیں۔

آپریشن کے مقامات

پولیس نے اندرون سندھ گرینڈ آپریشن کے لیے  مزید 3 نئی بکتر بند  گاڑیاں اور جدید اسلحہ مانگ لیا جبکہ ایس ایس پی شکار پور نے بتایا ہے کہ سندھ میں شکار پور ،گھوٹکی ،کشمور اور سکھر کے  علاقوں میں آپریشن کیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے 27 ڈاکوؤں کے سر کی قیمت مقرر کردی ہے، گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں بھی سندھ پولیس کا آپریشن جاری ہے۔

ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کراچی کا دورہ کیا اور    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی اور انہیں  آگاہ کیا کہ اگر  حکومت سندھ چاہے تو پولیس کے ساتھ بیک اپ کے لیے رینجرز بھی تیار ہے اور انہین ڈرونز بھی فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خاتمے کے لیے سندھ پولیس کو  جس طرح کے اسلحے کی  ضرورت ہوگی فراہم کریں گے۔

 میٹنگ کے بعد شیخ رشید نے میڈیا کو بتایا کہ  وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ فی ا لحال اس فیصلے سے خود نمٹنا چاہتے ہیں  لیکن امن صوبے اور وفاق کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ شکار پور اور جیکب آباد کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی سیاسی وابستگیاں بھی ہیں ،اس میں اگر کوئی بڑا نام پایا گیا تو سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے  یہ بھی بتایا کہ گرفتاریوں کی صورت میں ڈاکوؤں کے خلاف مقدمات بھی درج ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button