اعتکاف پر پابندی نہیں لگائی ، طاہر اشرفی

پنجاب حکومت نے ہفتے کے روز صوبے کی تمام مساجد میں اعتکاف پر پابندی عائد کردی تھی، اس سلسلے میں رات گئے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا ، محکمہ نے دعوی کیا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ پنجاب بھر میں کورونا وائرس کی بدترین صورتحال کے بعد کیا ہے، اس پابندی کے نفاذ کے بعد ، اب کوئی بھی مسجد اعتکاف کا انعقاد نہیں کرسکے گی جو پیر 21 رمضان (03 مئی) سے شروع ہوچکا ہے ۔

حکومت پنجاب نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لاہور سمیت صوبے کے 26 شہروں میں اعتکاف پر پابندی عائد کردی ہے، صرف کم مثبت شرح والے دس اضلاع میں اعتکاف مسجد میں کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں اوکاڑہ، ساہیوال، گجرات ، چنیوٹ حافظ آباد ،اٹک ،ڈی جی خان، سیالکوٹ اور جھنگ شامل ہیں ۔

کوئٹہ میں اصولوں کے تحت اعتکاف کی اجازت دی گئی ہے، اعتکاف میں بیٹھے لوگوں کی تعداد محدود کردی گئی ہے ۔ حیدرآباد میں بھی کورونا ایس ا و پیز کے پیش نظر اعتکاف کی اجازت نہیں دی گئی ہے مزید برآں وزارت صحت نے اعتکاف کے بارے میں رہنما خطوط جاری  کردی تھیں ۔

رہنما خطوط

رہنما خطوط کے مطابق بخار ، گلے کی سوزش اور کھانسی کی علامات کی صورت میں اعتکاف گھر میں کیا جائے گا، اعتکاف کی نیت سےمساجد میں آنے والے افراد گھر سے  جائے نماز ، پردے اور دیگر سامان لائیں ۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے جمعرات کے روز واضح کیا کہ حکومت نے ملک بھر کی مساجد میں اعتکاف پر پابندی عائد نہیں کی ، بلکہ اینٹی کورونا وائرس ایس او پیز (معیاری آپریٹنگ طریقہ کار) جاری کی ہیں تاکہ معتکفین کے درمیان کورونا کے پھیلاؤ سے بچا جاسکے ۔

کل ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹوں پر اعتکاف پر پابندی کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں کو واضح طور پر مسترد کردیا ۔

طاہر اشرفی جو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ آئندہ جمعہ کو جمعۃالوداع (یوم دعا) کے طور پر منایا جائے گا تاکہ وہ کورونا وائرس کے خلاف خداتعالیٰ کی  بارگاہ  میں فریاد کی جاسکے اور گناہوں کی معافی طلب کی جاسکے ۔

Back to top button