پیپلز پارٹی تھی ، ہے اور رہے گی

عباس پور ،راولاکوٹ  میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مخالفین پر برس پڑے اور پی ٹی آئی کو نشانے پر رکھتے ہوئے ن لیگ کو بھی کھری کھری سنادی۔

بلاول نے اپنے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  جو ٹی وی پر بیٹھے ہوئے طوطے ہوتے ہیں نا وہ کہہ کہہ کر تھکتے نہیں ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہوگئی ،آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ پاکستان پیپلز پارٹی ختم ہوگئی،پاکستان پیپلز پارٹی کل بھی زندہ تھی ،آج بھی زندہ ہے اور آنے والے کل  میں بھی آپ دیکھیں گے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی آپکو نظر آئے گی۔

انہوں نے  کہا کہ آنکھیں کھول کے دیکھیں یہ تو آپکے لیے ایک ٹریلر ہے،25 جولائی کو آپ آزاد کشمیر کا وزیر اعظم منتخب کرکے اسلام آباد کی طرف ہم رُخ کریں گے،بنی گالہ کی طرف ہم بڑھیں گے۔وہاں سے بھی ہم کٹ پتلی حکومت کو بھگائیں گے،پورے پاکستان کو ایک ہونا پڑے گا اگر ہمیں اس ایلیکٹڈ کو بھگانا ہے۔

کٹھ پتلی نے ملک کو معاشی بحران میں دھکیل دیا ،یہ کٹ پتلی پورے پاکستان کا خون چوس رہا ہے یہ امیروں کو ریلیف دلواتا ہے اور غریبوں کو تکلیف پہنچاتا ہے۔

کسی کو کشمیر کا سودا نہیں کرنے دیں گے، کشمیر پر سودا نہ کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آزاد کشمیر کی عوام کو برداشت نہیں ہے،کشمیریوں نے دیکھا کہ مسئلہ کشمیر پر اس کٹ پتلی نے کیا کیا۔

مودی کو منہ توڑ جواب

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم مودی کے الیکشن جیتنے کے لیے دعا نہیں مانگتے، ہم مودی کو اپنی شادیوں کی دعوت نہیں دیتے، ہم مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کو تیار ہیں۔ ہم نے تومودی کو منہ توڑ جواب دے دیا کہ کشمیر ہائی وے کو سری نگر کا نام دے دیا گیا ہے۔

 انہوں نے ن لیگ  کو نشانے پر لیا اور کہا کہ ہم تو اس جیل تک پہنچے اور ہم نے کہا کہ دیکھو ہمارا مخالف، مخالف نہیں نظریاتی بن چکا ہے، پتہ چلا انکو تو کوئی دلچسپی نہیں ہے عمران خان کو ہٹانے میں۔

وہ تو یہی بزدار اور یہی کٹ پتلی کو چلانا چاہتے ہیں،وہ ہمارے ساتھ مل کر عمران کو گرانے کو تیار نہیں ہیں۔

بجٹ سیشن میں دیکھا تو ہمارے دوست  ایوان سے غیر حاضر تھے،وہ تو کہتے تھے کہ آر اور پار ہوگا،اور اب آپ نے دیکھا کہ کیسے ہم آر اور پار ہوتے ہوتے پاؤں پکڑنے کی سیاست تک پہنچ چکے ہیں۔

اب  وہ کہتے ہیں جسکے بھی پاؤں پکڑنا پڑے ہم پکڑیں گے وزیر اعظم بننے کے لیے۔بلاول نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہم کسی کے پاؤں نہیں پکڑیں گے بلکہ جدوجہد کریں گے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی  نے بلاول کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف نے پاؤں پکڑنے کی بات محاورتاً کہی تھی،بلاول بھٹو کٹ پتلی تماشے کا حصہ اور سلیکٹڈ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کسی ڈیل کے ذریعے اقتدار میں آنے کی قائل نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button