ملک میں بجلی کا بحران حد سے بڑھ گیا

نہ حکومت کا نوٹس لینا کام آیا نہ ہی نیپرا کا،ملک میں ہونے والی طویل لوڈشیڈنگ جو کی توں برقرار ہے،کراچی کے کئی علاقوں اور حیدرآباد میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری ہے ،راولپنڈی کے کئی علاقوں میں رات سے بجلی غائب ہے،جہلم میں بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہری پریشان ہو چکے ہیں ،اسلام آباد کے سیکٹر جی 1 اور تھری میں بھی رات گئے بجلی کی فراہمی بند رہی۔

بڑے شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 6 گھنٹے  جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں یہ دورانیہ 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔

تربیلا ڈیم میں سلٹ آنے سے بجلی کی پیداوار بند ہوگئی ہے ،ملک میں بجلی کےبحران  میں شدت آگئی ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بڑھ  گئی ہے  جبکہ سلٹ سے مشینری کو   بھی نقصان پہنچنے کا  خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تربیلا سے 3000 میگا واٹ   پیداوار میں کمی کا سامنا ہے،مجموعی شارٹ فال 6000 میگا واٹ سے زائد ہوگیا ہے،تربیلا سے بجلی بننے میں دو دن لگیں گے۔

لاہور میں بھی شاٹ فال 1000 میگا واٹ تک پہنچ گیا  ہے اور لاہور کے کئی فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں کیونکہ لیسکو میں بجلی کی طلب 5000 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی  ہےجبکہ بجلی کی سپلائی تقریباً 4000 ہزار میگا واٹ ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ  کی پریشانی نے انکی  تکلیفات میں حد سے زیادہ اضافہ کردیا ہے۔

اسکول تو کھل گئے

علاوہ ازیں لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھل تو گئے تاہم شدید گرمی میں ہونے والی طویل لوڈشیدنگ کے باعث بچوں کو اسکول جانے میں تکالیف کا سامنا ہے، جہاں اسکولز میں لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے حبس اور گرمی  بچوں کو چین نہیں لینے دیتی وہیں دوسری جانب پانی ٹھنڈا نہ ہونے کی وجہ سے بھی بچے ہلکان ہو رہے ہیں ۔

دوسری جانب کسانوں کو بھی کھیتی کرنے میں تکلیف کا سامنا ہے کیونکہ ٹیوب ویل نہ چلنے کے باعث وہ اپنی فصلوں کو سیراب نہیں کر پارہے ہیں۔

 اسکے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار جن میں ویلڈنگ کا کام ہے، ٹیلرنگ کا کام ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دیگر ایسےروزانہ کے دیہاڑی پیشہ افراد بھی سخت پریشان ہیں ،لائٹ نہ ہونے کے باعث انکی معاشی حالت جو ابھی کاروبار کھلنے سے کچھ بحال ہوئی تھی وہ دوبارہ غیر ہوگئی ہے۔

 مختلف شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث شہریوں کےصبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا،لاہور اور گوجرانوالہ میں شہری سڑکوں پر آگئے اور شدید احتجاج کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجلی  کے بحران میں کمی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور جلد بجلی کی قلت پر قابو پالیا جائے گا۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کہتے ہیں کہ یہ شارٹ فال بڑے پن بجلی پاور پلانٹ  کی بحالی اور کچھ  تھرمل پاور پلانٹس کی بندش کے بعد آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تربیلا سے 3 ہزار میگا واٹ بجلی آج سے 4 یا 6 روز میں  واپس نیشنل گرڈ میں آجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button