امریکہ کو اڈے فراہمی کا معاملہ

ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان پارلیمان میں آکر بتائے کہ کیا امریکہ نے اڈے مانگے ہیں؟کیونکہ امریکہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان نے ہمیں اڈے دے دیے ہیں۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ حکومت بتائے کہ کیا مذاکرات ہو رہے ہیں، کیا مانگا جارہا ہے، پاکستان کو اسکا حصہ نہیں بننا چاہیے، افغانستان کا پیچھا ہمیں چھوڑنا چاہیے، افغانستان آزاد ملک ہے وہ اپنا ملک خود چلائیں، ہم سے اپنا ملک نہیں چل رہا ہم انکا ملک کیا چلائیں گے۔

 مزید براں شاہ محمود قریشی نے بھی اپوزیشن پر واضح کیا ہے کہ عمران خان نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے اور پاکستان  کے کردار کو افغانستان میں سراہا جارہا ہے اور جہاں تک منفی آوازوں کا تعلق ہے تو وہ اقلیت میں ہیں۔

تاہم اپوزیشن کس طرح کی تسلی چاہتی ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان امریکی ٹی وی پر بیٹھ کر بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کو اڈے نہیں دے گا اور  ہم افغانستان میں کاروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

امریکہ کو اڈے دینے کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اڈے دینے کا فیصلہ ہونے ہی والا تھا لیکن ہمارے پیغام کے سبب اسے روکا گیا،پاکستان کو افغانستان پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ایک وقت آئے گا کہ افغانستان میں سب ہوں گے لیکن  پاکستان نہیں ہوگا۔

انہوں نے دو ٹو ک انداز میں یہ بات بھی کہ دی کہ کسی لحاظ سے بھی اس حکومت کو  برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں ہے،مولانا فضل الرحمٰن نے 29 جولائی کو کراچی میں جلسے کا اعلان بھی کردیا۔

دوسری جانب  وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب  اپنے ٹوئٹ میں کہتے ہیں  کہ وکی لیکس میں انکشاف ہوا کہ فضل الرحمٰن  نے خود کو غلامی کے لیے پیش کیا، انہوں نے سابق امریکی سفیر کا آشرباد حاصل کرنے کے لیے خود کو غلامی کے لیے پیش کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فضل الرحمٰن نے ڈرون حملوں کے خلاف کبھی بات نہیں کی،فضل الرحمٰن کا دباؤ صرف پی ڈی ایم پر ہوتا ہے وہ بھی ایزی لوڈ کے لیے ۔

فرخ حبیب نے مولانا  فضل الرحمٰن کے بیان پر طنزیہ تبصرہ بھی کیا اور کہا کہ مولانا کا بس چلے تو پاکستان بنانے کا کریڈٹ بھی خود لے لیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button