کراچی میں کے الیکٹرک کی ستم ظریفی

کراچی میں بجلی کی بندش نے شہریوں کو  اذیت سے دوچار کر رکھا ہے ، مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔

اکثر علاقوں میں 3 سے 12 گھنٹے کی بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے  جس نے معمولات زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔شہر کے کچھ علاقے تو ایسے بھی ہیں جہاں لائٹ 2 گھنٹے آتی ہے اور پھر ڈھائی گھنٹے کے لے چلی جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ  طویل دورانئے کی لوڈ شیڈنگ کے بعد شکایت کرنے پر علاقائی  خرابی بتا کر ٹال دیا جاتا ہے اور یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ بجلی کب آئے گی۔طویل دورانیے کی ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے باوجود لمبے چوڑے بل بھیجے جارہے ہیں ۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر کو 3000 میگا واٹ کی بجلی  کی فراہمی جاری ہے،کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی بلکہ علاقائی فالٹس کی وجہ سے بجلی کی بندش کی شکایات آرہی ہیں۔

مزید براں کے الیکٹرک نےبھی بجلی کے قیمتوں میں  ردوبدل کی درخواستیں دائر کردیں ، بجلی کی قیمتوں سے متعلق درخواستیں  ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر جنوری سے اپریل تک  کے لیے کی گئی ہیں۔

فی یونٹ اضافے کی درخواست

جنوری کے لیے 1روپے 91 پیسے فی یونٹ اور فروری کے لیے 2 روپے 49 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی اور مارچ کےلیے 1 روپے 49 پیسے اضافہ اور اپریل کے لیے 86 پیسے فی یونٹ  کمی کی درخواست کی گئی ،مجموعی طور پر کے الیکٹرک کی جانب سے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے 36 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

نیپرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی درخواستوں پر سماعت 15 جون کو ہوگی۔

دوسری جانب کراچی میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے وفاق نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے، وفاق نے کے الیکٹرک کو 400 میگا واٹ اضافی بجلی  فراہمی کا اعلان کردیا۔

وزیر توانائی حماد اظہر نے ہدایت کی کہ کمپنی اگلے دس دن تک کراچی کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے معاملات کو درست کرے،وزیر اعظم کی ہدایت پر گورنر سندھ نے اسلام آباد میں وزیر توانائی سے ملاقات کی۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ کے ای کو وارننگ جاری کی ہے کہ شہری پریشانی کیوں اُٹھائیں، اگر کمپنی نے مزید پریشان کیا تو وفاق انتہائی قدم اُٹھا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ وفاق کے ای کی نجکاری ختم کرکے اسے تقسیم کار کمپنی بنا نے پر غور کر رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button