حکومت اور اپوزیشن کا اظہار افسوس

صدر عارف علوی نے ٹرین حادثے میں جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

وزیر اعظم عمران خان  نے گھوٹکی ٹرین حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا اور حادثے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ،انہو ں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ریلوے سیفٹی کی خرابیوں کی جامع تحقیقات کی جائیں ،وزیر ریلوے اعظم سواتی کو فوراً جائے وقوعہ پہنچنے ،جاں بحق افراد کے لواحقین  سے مکمل تعاون کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس حادثے کے بارے میں کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ہمارے ریلوے سسٹم کو ایک طویل عرصے سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

شیخ رشید کا اظہار افسوس

وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  ،حادثےکا ذمہ دار قدیم ٹریک کو قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر ریلوے نئے منظور شدہ ٹریکس پر  کام شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں ،اللہ کرے کہ جلد کام شروع ہو جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات کا تدارک ہوسکے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فرخ حبیب نے بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ نے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار تعزیت کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے واقع کی حقیقی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داران کے  خلاف سخت کاروائی کرنے  کا مطالبہ کردیا۔

ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری نے کہا کہ حکومت سندھ کو امدادی کارروائی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں جبکہ وفاقی حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرے۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے لواحقین کو ساڑھے پانچ لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے افراد کو 30ہزارسے 5 لاکھ روپے تک کی امداد فراہم کی جائے گی ۔ ریلوے حکام نے  بحالی کے عمل سے متعلق بتایا کہ پہلے بوگیوں میں پھنسے افراد کو نکال کر ٹریکس کوخالی کیا جائے گا ،اس کے بعد ہی بحالی کا عمل شروع ہوسکےگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button