پہلا پرچہ ہی آؤٹ ہوگیا

آج میٹرک کے امتحانات کے  پہلے ہی روز سندھ بھر میں بدانتظامی  عروج پر رہی  ،امتحانات سے  قبل حکومت سندھ اور میٹرک بورڈ کی جانب سے جتنے دعوے کیے گئے تھے  ان میں سے ایک بات بھی پوری ہوتی نظر نہیں آئی۔

صبح ساڑھے نو بجے پہلا پیپر شروع ہونا تھا لیکن  نارتھ کراچی،نیو کراچی،ناظم آباد ،نیو ناظم آباد ،اورنگی اور متعدد امتحانی مراکز پر یہ پیپر آدھے گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے تک کی تاخیر سے شروع ہوا جس نے ابتداء ہی میں "بہترین انتظامات ” کا پول کھول دیا۔

جامع ملیہ ،طارق روڈ،گڈاپ ٹاؤن ،ملیر سمیت کئی امتحانی مراکز ایسے بھی تھے جن میں پرچہ بارہ بجے شروع ہوا تاہم مراکز میں جتنی دیر تاخیر سے پرچہ شروع ہوا طلباء کو اُتنا ہی  مقررہ  دورانیہ سے زائد اضافی وقت دیا گیا ۔

نقل کے بے شمار واقعات

دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر میں پہلے ہی پیپر کے دن نقل کے بے شمار واقعات سامنے آگئے، کراچی میں  فزکس کا پرچہ شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی آؤٹ ہوگیا،واٹس ایپ پر حل شدہ پرچہ گردش کرتا رہا۔

اندرون سندھ میں پرچہ وقت سے پہلے ہی آؤٹ ہوگیا، گھوٹکی میں طلباء کی موجیں لگ گئیں ،فزکس کا مشکل پیپر بھی آسان ہوگیا۔

طلباء دھڑلے سے کلاس رومز میں بیٹھ کو اور کلاس رومز کے باہر بیٹھ کر چھپائی کرتے رہے، سہولت کاروں نے بھی بھر پور سہولت فراہم کی۔

جیکب آباد میں طلباء نے آرام سے کھلم کھلا واٹس ایپ سے دیکھ کا پرچہ حل کیا،اس بد انتظامی میں نہ کوئی پوچھنے والا تھا نہ روکنے والا۔

امتحانی مراکز  کے اطراف میں نام کی دفع 144 نافذ رہی ،فوٹو اسٹیٹ  کی دکانیں بھی بند رہیں ،طلباء کو ایڈمٹ کارڈ اور سینٹر زسے متعلق بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بد انتظامی پر چیئرمین میٹرک بورڈ نے کہا کہ ایک سال بعد پیپر ہوئے ہیں  لہذا بچوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے پرچہ آؤٹ ہونے کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور تاخیر  سے پہنچنے کا بھی نوٹس لیا جائے گا اور کل سے ایسا نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button