شہباز شریف کی رہائی کے بعد پہلی تفصیلی پریس کانفرنس

جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود راولپنڈی رنگ روڈ  منصوبے میں توسیع کی منظوری دی تھی اور بعد میں جب اس پر شور مچایا گیا تو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما نے چارسدہ میں ( جہاں وہ حال ہی میں متوفی اے این پی کی رہنما بیگم نسیم کو خراج تحسین پیش کرنے گئے تھے ) صحافیوں  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، "یہ اسی طرح ہے کہ وزیر اعظم عمران نے پہلے  چینی کی برآمدات کی منظوری دی اور اربوں روپے ایکسپورٹرز کو سبسڈی کی شکل میں    رعایت ملی اور پھر اس کی درآمد کی منظوری دے دی ،جس سے چھوٹا فائدہ دکھا کر ملک کا بڑا نقصان کرادیا اور مہنگائی کو بڑھا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ”رنگ روڈ منصوبے  میں بھی یہی کیا گیا ،منصوبے کے کاغذات سال 2017 میں تیار تھے اور منصوبے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی اور اس وقت اس میں توسیع شدہ اراضی شامل نہیں تھی تاہم عمران خان نے خود توسیع کا حکم دیا اور میڈیا کے شور مچانے پر یو ٹرن لے لیا”۔

ڈاکٹر توقیر شاہ [ایک سینئر بیوروکریٹ جن کی نئی منصوبہ بندی میں لینڈ سلز ہیں] وہ میرے سیکریٹری رہے ہیں اور وہ ایک ایماندار آدمی ہیں۔

شہباز  شریف نے کہا کہ شوگر اسکینڈل کے ذریعے اربوں روپے کا ناجائز استعمال کیا گیا اور  پھر ایک نیا اسکینڈل اُٹھا دیا گیا ،گندم ، دوائیں اور حالیہ عرصے میں ویکسینوں کی خریداری سمیت ہر ایک  معاملے میں  نا اہلی کو ڈھانکنے کے لیے صرف اسکینڈل  ہی بنائے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر نے حکومت سے این آر او (کرپشن کیسز میں استثنیٰ)  مانگنے  کی تردید کی ، کہا ہم جیل میں وقت گزار رہے ہیں،اگر ہم حکومت سے معاہدہ کرتے تو ایسا کیوں ہوتا؟۔

انتقامی کارروائیاں اور شہباز شریف

 چیئرمین ن لیگ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب انہیں انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے پہلی بار 1996 میں گرفتار کیا گیا تھا، مجھے اٹک اور لانڈھی جیلوں میں بھی رکھا گیا تھا۔

 شہباز شریف نے کہا کہ جیل میں رہتے ہوئے حالات کو مشکل تر بنانے کے لئے مجھے فرش پر سونے پر مجبور کیا گیا،عدالت کی اجازت کے باوجود مجھے بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا،یہ توہین عدالت تھی۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اپنے مخالفین کو چور اور ڈاکو کہتے ہوئے حکمران پی ٹی آئی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

معاشرے کا ہر طبقہ قیمتوں میں ہونے والے   قیامت خیز اضافےسے پریشان ہے”۔”

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے  کہا کہ موجودہ حکومت کوویڈ 19 وبائی مرض سے موثر انداز میں نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔

لوگوں کو خیرات میں ملنے والی ویکسینوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،آج کورونا وائرس حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں تباہی مچا رہا ہے۔

شہباز  شریف نے یاد دلایا کہ جب پنجاب میں ڈینگی بخار کی وبا پھیل رہی تھی اور حکومت اس کی روک تھام کے لئے کوشاں تھی تو ان کو اور ان کے بھائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کو "ڈینگی برادران” کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔

شہباز شریف اور تحریک انصاف

انہوں نے کہا  کہ”نواز شریف کے دور میں  چار میٹرو بس سروسز اور موٹر ویز بنائی گئیں ،کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی”۔

یہاں بی آر ٹی [بس ریپڈ ٹرانسپورٹ] پشاور میں 126 ارب روپے کی کرپشن کی اطلاع ملی،ان بسوں  کو سڑکوں پر چلنا نصیب نہ ہوا بلکہ جل گئیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر نے بجلی کی بلند و بالاقیمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومت نے سستی بجلی پیدا کی ہے ،آج کیا ہو رہا ہے؟” ۔

تحریک انصاف کے زیربحث رہنما جہانگیر ترین کے معاملے پر ، شہباز نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر مشاورتی اجلاس کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے۔

ایک روز قبل ہی جہانگیر ترین نے کہا تھا کہ پنجاب کے حکومت کی انتقامی کارروائیوں کے جواب میں ان کی حمایت کرنے والے پارٹی اراکین کا ایک ہم خیال "گروپ” تشکیل دیا گیا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی کے سابق جنرل سکریٹری نے پارٹی میں علیحدگی کی خبروں کی تردید کی ہے،انہوں نے کہا ہم نے فارورڈ بلاک تشکیل نہیں دیا ہے،انہوں نے لاہور کی ایک عدالت کے باہر صحافیوں  کو بتایا ، جہاں وہ اپنے خلاف درج منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں حاضر ہوئے  تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button