نو آبادیاتی کلچر کا خاتمہ

عوام کے ٹیکس کے پیسے کو بچانے اور عوام کو اس تکلیف سے بچانے کے لئے جو ایک وزیر مملکت کے ساتھ آئے ہوئے پروٹوکول اور سیکیورٹی کی وجہ سے ہوتی ہے  ، وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو یہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ سے وہ جب بھی کسی نجی تقریب میں جائیں گے تو پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر جائیں گے ۔

وزیر اعظم نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں لکھا ، ” ٹیکس دہندگان کی رقم کو بچانے اور عوام کو تکلیف میں مبتلاء ہونے سےمحفوظ رکھنے کے لئے میں اب سے پروٹوکول اور سیکیورٹی کے ساتھ کسی بھی نجی تقریب میں نہیں جاؤں گا ۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزراء ، گورنرز اور وزرائے اعلی کو دیئے گئے پروٹوکول اور سیکیورٹی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اخراجات کو کم سے کم کرنے اور عوامی تکلیف کو ختم کرنے کے لئے ایک راستہ طے کیا جاسکے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک جامع پالیسی کا فیصلہ آئندہ ہفتے کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا ۔

انہوں نے اس عزم کا  بھی اظہار کیا ، "ہم لوگوں کو مرعوب کرنے والے نو آبادیاتی کلچر  کو ختم کردیں گے” ۔”

وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر ملک میں مروجہ "وی آئی پی ثقافت” کے خلاف بات کی ہے ۔

سال 2018 میں ، وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے سے کچھ عرصہ قبل عمران خان نے بنی گالہ سے اسلام آباد کے نجی ہوٹل جاتے ہوئے انہیں دیئے گئے سرکاری پروٹوکول پر برہمی کا اظہار کیا تھا ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے ریمارکس دیئےتھے”مجھے سرکاری پروٹوکول دیا گیا [ آج یہاں آتے وقت ] ،ملک کو اس طرح نہیں چلایا جاسکتا ۔

سرکاری اخراجات

وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے سرکاری اخراجات کم کرنے پر زور دیا تھا۔ قومی خزانے  کی بھر پائی  کے طور پر، انہوں نے پی ایم ہاؤس کی زائد گاڑیاں نیلام کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

کفایت شعاری مہم کے ایک حصے کے طور پر ، 102 گاڑیاں فروخت کے لئے رکھی گئیں ، جن میں سے حکومت کے مطابق  61 بیچ دی گئیں تھیں ۔

مئی میں وزیر اعظم نے بغیر کسی پروٹوکول کے اسلام آباد کے متعدد علاقوں کا دورہ کیا ۔ ان کے ہمراہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین عامر احمد علی بھی تھے ۔

اس کے بعد ایک بار پھر چند دن قبل وزیر اعظم کی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں گاڑی چلاتے ہوئے ایک ویڈیو سینیٹر فیصل جاوید نے شیئر کی تھی ۔

وزیر اعظم کی جانب سے پروٹوکول ختم کرنے کے اقدامات پر موٹر وے پولیس نے بھی کسی بھی شخصیت کو اضافی پروٹوکول دینے سے منع کردیا ہے ۔

جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پروٹوکول اور پائلٹ کرنا موٹر وے پولیس کی ذمہ داریوں میں نہیں آتا ہے ،موٹر وے پولیس کے تمام افسران کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button