ملک کی معاشی صورتحال قوم کے سامنے

مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار آج ہوا،سیمینار کا عنوان "عمران خان کی حکومت میں  ڈوبتی معیشت ” تھا۔سیمینار سے اپوزیشن کے سربراہ شہباز شریف سمیت  دیگر شرکاء نے خطاب کیا۔

گزشتہ روز اپوزیشن رہنما مریم اورنگزیب اور مفتاح اسماعیل نے  پریس کانفرنس میں سیمینار سے متعلق  تفصیلات  اور چند دیگرامور پر بات کی۔

لیگی رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ معاشی اعداد وشمار دھوکہ ہیں ،شوکت ترین صاحب بلکل صحیح کہتے ہیں ،میں انکی بات سے  بلکل متفق ہوں کہ عمران خان کے وزراؤں کی پالیسیز کی  وجہ سے معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے،یہ بات بلکل درست ہے میں بیڑا فرق نہیں کہتا ہوں  میں ستیا ناس کہتا ہوں۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کہتے ہیں  کہ "لگتا ہے کہ  عمران خان کی جی ڈی پی کا مطلب گرینڈ ڈسٹریکشن آف پاکستان ہے،عمران خان نے 100 دن میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا 1000دن ہوگئے،بدلہ کچھ نہیں۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نےاپوزیشن کےواروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بند کریں،ہم نے معیشت کو ن لیگ کی بچھائی بارودی سرنگوں سے بچا لیا،معیشت کی ترقی کی وجہ سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے،اگلے سال معیشت کی شرح 5 فیصد اور 2023 میں اقتصادی شرح نمو 6 فیصد تک لے کر جائیں گے۔

ملکی معیشت مشکل میں تو آپکا  منافع دگنا کیسے؟

صحافی نےسوال کیا کہ لیگی دور حکومت میں آپکی کمپنی  نےسالانہ 35 کروڑ کمائے ،موجودہ حکومت کے دور  میں منافع دوگنا ہوگیا،اگر ملکی معیشت کی حالت خراب ہے تو آپکی کمپنی نے دوگنا منافع کیسے کمایا۔صحافی کے سوال پر مفتاح اسماعیل سٹپٹاگئے،بولے میری کمپنی کےمنافع کا معیشت سے کیا تعلق  ہے۔

مفتاح اسماعیل تو جواب نہ دے سکے مگر مریم اورنگزیب نے صحافی کے سوال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  کہاکہ یہ کیسا سوال ہے۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران  مفتاح اسماعیل سے سوال کیا کہ  ملک کی معیشت ٹھیک نہیں تو کیا آپکی کمپنی مریخ پر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button