نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا

تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف  کی جانب سے  عدالت میں پیش ہونے میں مسلسل ناکامی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں  سزا کے خلاف اپیلیں خارج  کردی گئیں اور انکی سزاؤں کو بحال کردیا گیاہے ۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کی سزائیں برقرار رکھیں اورتحریری فیصلے میں ریمارکس دیے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف قانون سے مفرور اور اشتہاری ہیں جسکے باعث  وہ حق سماعت کھوچکے ہیں ۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل آئی ایچ سی ڈویژن بنچ نے ایوین فیلڈ اپارٹمنٹس اور العزیزیہ ریفرنسز میں معزول وزیر اعظم کی اپیلیں خارج کردی کیونکہ وہ سزا کے بعد ضمانت پر ہونے کے باوجود بیرون ملک گئے، سماعت پر غیر حاضر رہےاور بغیر کسی جواز کے عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے جسکے باعث انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

عامرفاروق کے تحریر کردہ 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں پرویز مشرف سمیت 4 مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا،فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا ،انہیں سنا گیا اور گواہان پر جرح کا موقع بھی ملا۔

مقدمات کا پس منظر دیتے ہوئے حکم میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کو جولائی اور دسمبر 2018 میں احتساب عدالتوں نے نیب ریفرنسز میں زیر سماعت سزا سنائی تھی۔بعد ازاں نواز شریف نے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کیں اور انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

ایوین فیلڈ ریفرنس

جولائی 6، 2018 کو ، احتساب عدالت نے ایوین فیلڈ ریفرنس میں نواز  شریف کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی اور اس کے بعد  احتساب عدالت نے دسمبر 24، 2018 کو ، العزیزیہ ریفرنس میں  نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ نواز شریف جب سرینڈر کریں یا پکڑے جائیں تواپیلیں بحال کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں ،اگر کبھی ایسی درخواست انکی جانب سے آئی تو اس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن صفدر اور مریم نواز کی اپیلوں پر الگ سے سماعت جاری رہے گی اور عدالت عالیہ نے  ان کی اپیلوں پر سماعت 6 جولائی کو مقرر بھی کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button