انگریزوں نے تہذیب کا چولا اُتار پھینکا

انگلینڈ والے یوروکپ کی ٹرافی ہوم لانے کے منتظر تھے۔لیکن یہ کیا۔۔ٹرافی تو ہوم کے بجائے روم چلی گئی اور انگلینڈ کا 55 سال بعد ٹرافی جیتنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

ومبلےکے تاریخی  اسٹیڈیم میں تاریخ رقم ہوئی اور  یورو کپ 2021کے فائنل میں ڈرامائی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں میزبان انگلینڈ کو شکست دے کر 53 سال کے وقفے کے بعد اٹلی یورپی فٹ بال چیمپئن بن گیا۔

اٹلی نے پنلٹی ککس پر 2-3 سے فتح اپنے نام کرلی۔ایک طرف تو دنیا اٹلی کے کارنامے پر خوشی منا رہی تھی  تو دوسری جانب انگلینڈ کے شائقین اپنی ٹیم کے ہارنے پر برہم تھے ۔

میچ کے بعد انگلش مداحوں نے ومبلے اسٹیڈیم کے باہربوتلیں  توڑیں اور ہنگامہ آرائی کی۔ لندن کے ٹریفلگر اسکوائر میں موجود کچھ مداحوں نے باڑ کو لاتیں ماریں، بوتلیں توڑیں ، کوڑے دانوں کو اُلٹ دیااور لڑائی جھگڑا کیا۔

سیخ پا انگلش شائقین نے اٹالین مہمانوں کی درگت بنادی، انگلینڈ کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں۔ کچرے کا ڈھیر لگ گیا۔ انگلینڈ کے کچھ شائقین نے اطالوی شائقین پر جسمانی ، زبانی اور نسلی طور پر حملہ کیا۔ غنڈہ گردی سے لے کر تشدد تک اور تشدد سےنسل پرستی تک ، ناراض انگلینڈ کے شائقین زہریلے سلوک میں ملوث  ہوگئے۔

انٹرنیٹ پر مختلف تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں جس میں انگلینڈ کے مداحوں کو  ہنگامہ برپا کرتے ، ایشین اور افریقی باشندوں کو زدوکوب کرتے، اور سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

لندن میں گرفتار یاں

میٹرو پولیٹن پولیس نے بتایا  ہے کہ پورے دن میں 45 افراد کو لندن میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اِدھر انگلش کھلاڑی  بھی نسلی منافرت کا شکار ہونے لگے،پنلٹی ککس مس کرنے والے تینوں کھلاڑیوں ساکا،ریشفورڈ اور سینچو کو انگلش  شائقین نےسوشل میڈیا پر نشانے پر رکھ لیا ہے۔

دوسری جانب روم پہنچے پر اطالوی ٹیم کا شاندار استقبال ہوا،کپتان سر پر تاج سجائے ،ٹرافی اُٹھائے  بس سے باہر نکلے،تو عوام نے تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button