افغان عبوری حکومت جامع حکومت نہیں ، ایران

تہران : ایران نے پیر کو الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے جس عبوری حکومت کا افغانستان میں گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا وہ ملکی آبادی کی نمائندہ حکومت نہیں ہے ۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سید خطیب زادہ نے کہا کہ یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ جامع حکومت نہیں ہے جس کی بین الاقوامی برادری اور اسلامی جمہوریہ ایران توقع کر رہا تھا ۔

انہوں نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کے ، ہمیں واقعی انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ طالبان بین الاقوامی مطالبات کا کیا جواب دیتے ہیں ۔ ایران ، جسکی افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر سے زائد سرحدیں ملتی ہیں ، پہلے ہی تقریبا 35 لاکھ افغانیوں کی میزبانی کر چکا ہے اور اسے اب مہاجرین کی نئی آمد کا خدشہ ہے ۔

ایران کے طالبان کے ساتھ ان کے 1996-2001 کے اسلامی امارت کے دور حکومت میں متنازعہ تعلقات رہے ہیں ، جسے اس نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔ اس کے باوجود تہران حالیہ مہینوں میں طالبان کے ساتھ تعلقات کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

دریں اثناء ، اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے پیر کو کہا کہ طالبان افغانستان میں خواتین کے حقوق اور حکومت میں شمولیت کے بارے میں اپنے وعدے توڑ رہے ہیں اور انہوں نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور مبینہ انتقامی قتل پر بھی تنقید کی ۔

انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ وہ افغانستان میں نام نہاد نگراں کابینہ کے اراکین سے پریشان ہیں ، جس میں کوئی عورت اور کوئی غیر پشتون شامل نہیں ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button