فوج اور طالبان میں کھینچا تانی

افغانستان میں غیر ملکی فوج کے انخلاء کے بعد  سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔افغان طالبان ایک کے بعد ایک ضلع پر قبضہ کرنےکا  دعوی کر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ زابل کے ایک اور  ضلع  پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان اب تک 100 سے زائد اضلاع پر قبضہ کرچکے ہیں۔

دوسری جانب کنٹرول  واپس لینے کے لیےافغان فورسز کا  آپریشن  بھی جاری ہے۔افغان وزارت دفاع کے مطابق 24 گھنٹے میں 100 سے زیادہ طالبان ہلاک ہوچکے ہیں۔

 افغان طالبان نے ایران بارڈر کے ساتھ کسٹم  چیک پوسٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان نے ایران بارڈر کے ساتھ کراسنگ پوائنٹ اسلام قلعہ پر بھی قبضہ کیا ہے۔

ترجمان طالبان نے اسلام قلعہ قصبے میں ہوائی فائرنگ کے ساتھ جشن منانے کی ویڈیوز جاری کردیں ہیں ۔اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ ہیرات سے 75 میل کے فاصلے پر ہے۔

بارڈر کراسنگ پوائنٹ

واضح رہے کہ افغان طالبان نے پچھلے ہفتے قبل تاجکستان اور ازبکستان کے سات بارڈر کراسنگ پوائنٹ قبضے میں لیے تھے۔

علاوہ ازیں طالبان نے صوبہ ہرات اور بادغیس کے مزید مختلف علاقوں پر مزید کسی مزاحمت اور لڑائی کے قبضہ کرلیا ہے۔طالبان قندوز اور قندھار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

صوبہ نیمروز میں درجنوں فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اور درجنوں ہتھیار ڈال چکے ہیں۔افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل پر طاقت سے قابض نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کی اہم بیٹھک ہوئی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین اس بات پر متفق نظر آئے کہ افغانستان کے مسائل کا حل جنگ نہیں،تمام تر کوششیں سیاسی امن ڈھونڈنے کے لیے ہونی چاہییں۔

افغانستان طالبان کے 4 رکنی وفد نے ماسکو میں روس کے خصوصی مندوب سے ملاقات کی۔ملاقات میں امن عمل اور موجودہ صورتحال  پر بات چیت ہوئی۔

اُدھر افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں عمائدین  کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ افغانستان غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد منتقلی کے پیچیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button