اساتذہ اور سرکاری ملازمین کا احتجاج

کراچی  میں اساتذہ  کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم اور بلدیاتی اداروں کے دیگر 16 سے زائد شعبہ جات سے وابستہ سرکاری ملازمین   سندھ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مظاہرین نے اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی  ،جس پر پولیس اور مظاہرین میں ہاتھا پائی  بھی ہوئی تاہم پولیس نے انہیں  وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے سے روک دیا ہے  اور وزیر اعلیٰ ہاؤس  جانے والی سڑک بھی بند کردی ہے۔

احتجاج میں شامل شرکاء  نے روکے جانے کے بعد   ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ پردھرنا دے دیا ہے جسکی وجہ سے پی آئی ڈی سی چوک اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا ہے۔

تاہم ملازمین کا 4 رکنی وفد وزیر اعلیٰ ہاؤس گیا اور دو گھنٹے مذاکرات جاری  رہنے کے بعد  مظاہرین کےایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے مذاکرات کا میاب ہوگئے ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری  نے مطالبات سننے کے بعد ایک تین رکنی ٹیم بنانے  کی منظوری دی ہے،کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے پر دھرنا ختم کردیا جائے گا۔

کمیٹی  کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر اپنی سفارشات طے کرے گی جسکے بعد مسائل کے حل کے لیے  حتمی بات چیت کی جائے گی۔

مظاہرین کے مطالبات

پہلا مطالبہ یہ ہے  کہ   سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25سے 30 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔

دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ  ملازمین کو انکے عہدوں پر مستقل کیا جائے۔

تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ ریکوری کی مد میں جو تنخواہوں سے کٹوتی ہوتی ہے اسے بند کیا جائے۔

چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ ہیلتھ  اور دیگرانشورنس الاؤنسز جاری کیےجائیں نیزریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس بھی دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button