سیاحت : سوات ایئر پورٹ 17 سال بعد بحال

سوات کا سیدو شریف ایئرپورٹ 1979 میں آپریشنل کیا گیا تھا، اس وقت اس ایئر پورٹ سے پشاور کے لیے 98  روپے ٹکٹ جبکہ اسلام آباد کے لیے 125 روپے کا ٹکٹ ہوا کرتا تھا۔

پہلی بار 1993 میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ ایئر پورٹ کچھ وقت کے لیے بند ہوا، بعد میں کھول دیا گیا۔ سوات اور قریبی علاقوں میں شدت پسندی اور پھر ان علاقوں میں فوجی آپریشنز کی وجہ سے سیدو شریف ایئر پورٹ کو سنہ 2004 میں ایک بار پھر بند کرنا پڑا ۔

 اب حالات میں بہتری اور امن کا قیام ممکن ہونے کے بعد خطے میں تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکومت اب ملک میں سیاحت کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔ سوات کا سیدو شریف ایئر پورٹ اس سلسلے کا چوتھا ائیرپورٹ ہے، اس سے پہلے سکردو، گلگت اور چترال کے ہوائی اڈوں کو فضائی سروس کے لیے بحال کیا گیا ہے۔

سیدو شریف ایئر پورٹ 17 سال بعد دوبارہ فعال ہو ا ہے جو کہ خیبرپختونخوا حکومت کے سیاحت کے فروغ کے عزم میں معاون ثابت ہوگا، جبکہ مقامی صنعتوں اور سوات کے تازہ پھلوں کی ملک بھر میں بروقت ترسیل سے مقامی معیشت مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ اس فضائی سفر کے لیے پی آئی اے چھوٹے مسافر طیارے اے ٹی آر طیارے استعمال کرے گا۔

سترہ سال کے طویل عرصہ کے بعد آج  صبح دس بجے پی آئی اے  کی فلائٹ پی کے 650 اسلام آباد سے روانہ ہوئی اور 11 بجے سیدو شریف ایئر پورٹ پر لینڈ کی۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا، وزیر ہوابازی اور وزیر مواصلات بھی جہاز پر سوار ہوئے، تمام افراد نے قطار میں لگ کر بورڈنگ کارڈ حاصل کیا۔

ایئرپورٹ پر پرواز سے قبل کیک کاٹا گیا اور مہمانوں کی تواضع کی گئی ، وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے معزز مہمانوں کو گلدستے اور تحائف پیش کئے، سوات ائیر پورٹ پر فلائٹ سے آنے والے مہمانوں کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔ 

ابتدائی طور پر اسلام آباد سے سوات کے لئے ہفتے میں دو دن پروازیں چلائی جائیں گی، اسلام آباد سے سوات کی فلائٹس کراچی اور لاہور سے آنے والی فلائٹس کے ساتھ کنکٹ ہونگی۔

Back to top button