ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال

تنظیم اہلسنت کے رہنما  اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب الرحمٰن نے لاہور واقعے کے خلاف آج (پیر کو) ملک گیر  پہیہ جام اورشٹر ڈاؤن ہڑتال کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے حکومت سے ٹی ایل پی کارکنوں کو رہا کرنے اور اس گروپ پر عائد پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مفتی منیب الرحمن نے اتوار کی شام کراچی میں دارالعلوم امجدیہ میں دیگر علمائے کرام کے ہمراہ عجلت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  مزید کہا کہ ہڑتال پر امن ہے پر امن رہیں ، یہ ملک ہمارا ہے، کسی اور سے زیادہ اسکی سلامتی ہمیں عزیز ہے،  چار دیواری اور جان ومال کی حرمت کا احترام کیا جائے، اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے،۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب نے  مزیدکہا کہ  ہم شیخ رشید کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں  کہ فرعونی لب و لہجہ میں دھمکیاں دینا چھوڑ دے،حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی ختم ہوجائے گی ، لیکن اس کے ظالمانہ اقدامات کو فراموش نہیں کیا جائے گا، جب تک شیخ رشید جیسا متنازع اور نامناسب شخص وزارت داخلہ کے عہدے پر فائز ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ کالعدم کا پرفریب نعرہ ترک کر کے 12 اپریل کی صورتحال بحال کریں ،تبھی بامعنی مذاکرات کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے ۔

مرکزی دھارے میں شامل دیگر مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے بھی مفتی منیب الرحمٰن کے مطالبات اور ملک میں مکمل ہڑتال کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا ۔

 پی ڈی ایم کے چیئرمین فضل الرحمن نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مفتی منیب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی چیز کی قربانی دینے کو تیار ہیں،انہوں نے کہا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مسئلہ کیوں بنایا گیا

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت مفتی منیب الرحمان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہےاور ملک گیر ہڑتال کا مطالبہ کرتی ہے،انہوں نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کی حمایت کی، انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کا جواز نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت جارحیت کو روکنے اور احتجاج کرنے والے مذہبی گروہ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے۔

Back to top button