کہیں سخت لاک ڈاؤن، کہیں بازاروں میں رونقیں

جمعرات کو وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ نے اعلان کیا ہے کہ  سندھ میں تمام کاروبار جمعہ اور ہفتہ کو صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر کاروباری افراد کورونا وائرس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو وہ دونوں دن اپنی معمول کی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں،انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ خریداری کے لئے آنے والے لوگ ایس او پیز کی پیروی کریں گے، اتوار کے بعد سے کاروبار بند ہو جائے گا اور اس کے لئے ایک علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں کورونا وائرس کیسزکی شرح 14.32 فیصد تک اضافے کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ، جس  کے تحت  سندھ حکومت وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پہلے سے عائد پابندیاں سخت کرنے پر زور دے رہی ہے۔

وزیر اعلی ہاؤس  سندھ سے جاری ایک بیان  میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے بعد  صوبے کے لوگوں کو گھروں میں ہی محدود رکھنے کے لئے مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے کوروناکیسز کی روشنی میں  کراچی کی ضلعی انتظامیہ نے 64 دکانوں کو سیل کردیا ، سات افراد کو گرفتار کیا ، اور 369 کو متنبہ کیا۔

مراد علی شاہ

وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگ صورتحال کی سنگینی کو نہیں سمجھتے ہیں،ماہرین اور ٹاسک فورس کے ممبروں کے مشورے پر فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ سے ہی گروسری اسٹورز سمیت تمام دکانیں شام 6 بجے کے بعد بند کردی جائیں گی۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس کے دوران ہوا ، جس میں صوبائی وزیر اور مشیر ڈاکٹر عذرا فضل پلیچو ، ناصر شاہ ، سعید غنی ، مرتضی وہاب ، قاسم سراج سومرو ، چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، آئی جی سندھ مشتاق مہر ، اور دیگر متعلقہ عہدیداروں  نے شرکت کی۔

ریستوران اب افطار کے بعد ٹیک اوے کی سہولت  فراہم نہیں کرسکیں گے ، لیکن انہیں ہوم ڈیلیوری کی پیش کش کی اجازت ہوگی۔

واضح رہےگذشتہ ماہ حکومت سندھ نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ اور اتوار کو صوبہ بھر کے کاروبار بند رہیں گے سوائے گروسری کی دکانیں ، میڈیکل اسٹورز ، ڈیری شاپس اور دیگر کاروبار جو ضروری خدمات کے تحت آتے ہیں ،کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Back to top button