کہیں زلزلہ تو کہیں آلودگی

جمعرات کے روز سوات ،مالاکنڈ،بُنیر اور گرد ونواح میں زلزلے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔لوگ گھروں سے باہر نکال آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت5اعشاریہ3 اور گہرائی168 کلو میٹر تھی۔

زلزلے کا مرکز پاک افغانستان،تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔تاہم کہیں سے بھی کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

گزشتہ ماہ 17 جون کو  بھی  4 اعشاریہ 4 شدت کے زلزلے سے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے کچھ حصے لرز اٹھے تھے۔ اُس  وقت اسلام آباد ، مری ، ایبٹ آباد ، سوات ، بٹگرام ، مانسہرہ اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

نیشنل زلزلہ مانیٹرنگ سینٹر اسلام آباد کے مطابق درمیانے درجے کے زلزلے کا مرکز مینگورہ سے 25 کلو میٹر دور تھا اور اس کی گہرائی 20 کلومیٹر تھی۔

دوسری جانب خیبر پختونخواہ میں  متعلقہ اداروں کی غیر ذمہ داری کے باعث آلودگی جانچنے کے لیے نصب کروڑوں روپے کے آلات غیر فعال ہو چکے ہیں۔پشاور میں 8 مختلف مقامات پر نصب آلات صرف ایک سال ہی چل سکے۔

پشاور میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی جانچ کے لیے صوبائی حکومت نے گزشتہ سال 8 مختلف مقامات پر آلات نصب کیے تھے۔جن کی مدد سے فضا میں موجود  مضر صحت عناصر کی نشاندہی کرنا تھا۔

تاہم عدم توجہ کے باعث ایئر کوالٹی ہیلتھ  انڈیکس سسٹم غیر فعال ہوگیا۔محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے آلات چیف سیکریٹری آفس،سول سیکریٹیریٹ اور لوکل گورنمنٹ سیکریٹیریٹ  سمیت دیگر مقامات میں نصب تھے۔

معاون خصوصی کامران بنگش کہتے ہیں کہ آلات کو فعال کرنے  سمیت دیگر اضلاع میں نصب کرنے کا کام جلد کیا جائے گا،تاکہ ہمیں خیبر پختونخواہ کی مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس کا پتا چلے۔ہم نے عاطف خان صاحب کے ساتھ یہ مسئلہ اُٹھایا ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button