سوشل میڈیا کمپنیاں ایف آئی اے کے ساتھ تعاون کریں

اسلام آباد : پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ملک میں سائبر کرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ کام نہیں کررہی ہیں۔

ایم این اے امجد خان کی سربراہی میں سرکاری اداروں کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ میں سائبر کرائم کو روکنے کے لئے فیس بک ، ٹویٹر اور ٹِک ٹوک جیسے سوشل میڈیا جائنٹس کے بارے میں بتایا گیا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے عہدیداروں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے تعاون اور انکی رضامندی کے فقدان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے "فیس بک ہماری درخواستوں کا جواب دینے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا ہے ۔

سکریٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ گذشتہ سال سے اب تک 94،000 سائبر کرائم کی شکایات درج ہوئی ہیں ۔ ہم ہر شکایت پر غور کررہے ہیں اور کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا ۔

سیکرٹری نے آگاہ کیا کے "ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو روزانہ کی بنیاد پر حکومت مخالف ، مذہبی ، جعلی اکاؤنٹس اور چائلڈ پورنوگرافی پوسٹوں سے متعلق 260 شکایات موصول ہوتی ہیں ۔

اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی ہدایت کے تحت ملک میں تقریبا تمام فحش ویب سائٹوں تک رسائی روک دی گئی ہے ۔

عہدیداروں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ "مؤثر اقدامات کے بعد توہین رسالت کے مقدمات سے متعلق شکایات میں بھی کمی آئی ہے ۔

اس موقع پر ، ایم این اے آفتاب شعبان میرانی نے کہا کہ ملک کو سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اہم کھاتوں کی ہیکنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button