سندھ نے سکول فرنیچر گھپلوں کے الزامات کو مسترد کردیا

کراچی : سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے بدھ کو کہا کہ ایک مرکزی خریداری کمیٹی نے سندھ میں سرکاری اسکولوں کا فرنیچر بغیر کسی مداخلت کے آزاد اور خود مختار طریقے سے خریدا تھا ۔

موجودہ وزیر تعلیم کے ساتھ صوبے کے سابق وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ بھی موجود تھے کیونکہ دونوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرنے کے لیے ایک نیوز کانفرنس کی تھی ۔

چند روز قبل میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے شکایت کی تھی کہ محکمہ تعلیم سندھ مبینہ طور پر سرکاری سکولوں کے لیے 320 فیصد سے زیادہ کی شرح قیمت پر ڈیسک خرید رہا ہے ۔

دونوں وزراء ، غنی اور شاہ نے پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ سے کہا کہ وہ ہم پر لگائے گئے ان کرپشن کے الزامات کے لیے پہلے ثبوت فراہم کریں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی سینٹرل پروکیورمنٹ کمیٹی نے قومی احتساب بیورو (نیب) ، ٹی آئی پی ، سندھ ہائی کورٹ (این ایچ سی) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو خریداری کے ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا تھا جبکہ ان حکام سے کہا تھا کے خریداری کا حصہ بننے کے لیے ایک نمائندہ بھی نامزد کرد یں ۔

وزراء نے بتایا کہ سندھ میں سرکاری سکولوں کے لیے فرنیچر خریدنے کے لیے صرف 3.6 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ خریداری کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایک ارب روپے کی رقم منتخب بولی دہندہ بطور ڈیل کے سرکاری ٹیکس اور ٹرانسپورٹیشن چارجز کے طور پر ادا کرے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button