سندھ حکومت کا سب بند کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں موجود عہدیداروں کو صوبے کی کورونا وائرس صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جسکے بعد کئی نئے فیصلے لیے گئے۔

کورونا وائرس کی مہلک تیسری لہر کے پیش نظر حکومت سندھ نے صوبے میں تمام اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش سمیت اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں کئی اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق  سندھ میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کے اعداد شمار کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 5 اعشاریہ 6 جبکہ پورے ملک میں کیسز مثبت آنے کی شرح 9 اعشاریہ 6 رہی، سندھ میں تین سے چار گنا تک کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے کی شرح بڑھ گئی ہے جو کہ باعث تشویش ہے لہذا ہم نے کچھ فیصلے لیے ہیں۔

پہلا اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز ہم مکمل طور پر بند کر رہے ہیں۔

دوسرا ہر دکاندار کو اپنی  دکان کی 50 فیصد گنجائش کے مطابق ہی گاہک دکان میں داخل کرنے کی اجازت ہوگی مثلا دکان میں دس کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہے تو پانچ گاہک سے زیادہ دکان میں نہیں داخل ہوسکتے،فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی دکان بند کرکے سیل کردی جائے گی۔

تیسرا جمعرات سے صوبے بھر میں انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کی جارہی ہے ۔

چوتھا نجی و سرکاری دفاتر کے اوقات کار کو 9 بجے سے 2 بجے تک کردیا گیا ہے  اور  سرکاری دفاتر میں 20 فیصد اور نجی دفاتر میں 50  فیصد عملے کی حاضری کی اجازت ہوگی جو دفاتر خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے انہیں سیل کردیا جائے گا۔

پانچواں ریسٹورینٹس صرف ٹیک اوے اور ڈیلیوری کی سروس فراہم کرسکیں گے،ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائیننگ دونوں پر پابندی ہوگی۔

چھٹا تمام سماجی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

وزیر اعلی سندھ نے مزید کہا کی انتظامیہ کو  ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تمام فیصلوں پر سختی سے عمل کروائیں مزید یہ کہ   فوج کی مدد لینے کے لیے متعلقہ اداروں کو درخواست بھیج دی گئی ہے۔

Back to top button