سندھ حکومت اور تاجر آمنے سامنے

کراچی تاجر ​​ایکشن کمیٹی  کا سندھ حکومت کو دیا گیا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم   ختم ہونے والا ہے۔ کراچی تاجر ​​ایکشن کمیٹی  نے منگل کے روز سندھ حکومت سے مطالبہ کیا  تھا کہ شام 8 بجے تک کاروبار کو کھلا رہنے دیا جائے۔

تاجر رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا  تھا کہ  ہفتہ وار دو دن کے بجائےایک دن کیلئے کاروبار بند کریں۔

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان عرفان  کا کہنا تھا  کہ سندھ سرکار ترجیحی بنیادوں پر تاجروں کی ویکسی نیشن کرے۔

تاجر رہنما شرجیل  گوپلانی کاکہنا تھا کہ  صبح آٹھ سے رات آٹھ تک کاروبار کرنے دیا جائے ورنہ ٹیکس کی ادائیگی روک سکتے ہیں۔

حماد پونا والا اور جمیل پراچہ  نے کہا کہ اربوں روپے کا کاروبار کرنے والی مارکیٹس کو سیل کردیا جاتا ہے،کروڑوں کے جرمانے کردیے جاتے ہیں،اگر ہمارے مطالبات جمعہ تک نہ مانے گئے تو فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔

انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ مجسٹریٹ کو دیئے گئے اختیارات کو واپس لیں تاکہ وہ بازاروں کو سیل اور کاروباروں پر جرمانہ  نہ عائد کرسکیں۔

تاجروں کے مطالبات

کمیٹی نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومتیں تاجروں سے مشورے کے بغیر  فیصلے نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے مطالبات کو 72 گھنٹوں کے اندر پورا کیا جائے بصورت دیگر وہ  کاروبار بند کرکے احتجاج کریں گے۔

بزنس مین عتیق میر نے ریمارکس دیئے کہ صرف ایم کیو ایم نے ان سے  ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھا ۔

عتیق میر نے کہا  کہ”سندھ حکومت اور این سی او سی ہمیں نظرانداز کر رہے ہیں ، سندھ میں وزیر تعلیم کاروبار سے متعلق فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر کراچی میں کاروباری  مراکزکو شام 6 بجے  کے بعد کھلنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ احتجاج کریں گے۔

ادھر تاجر شرجیل گوپلانی نے الزام لگایا کہ ضلعی انتظامیہ نے موبائل مارکیٹ سے بطور رشوت 10 لاکھ روپے لئے اور ان سے قیمتی موبائل فون بھی چھین لئے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ تاجر صوبے میں گورنر راج کا مطالبہ کررہے ہیں،کمیٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں کاروباری افراد کو خصوصی مراعات دی جائیں۔

Back to top button