بلوچستان کا پانی بھی سندھ نے لے لیا

پنجاب کے بعدبلوچستان نے  بھی سندھ پر پانی چوری کا الزام لگا دیا۔

لیاقت شہوانی  نے کہا کہ بلوچستان کو 55 فیصد کم پانی مل رہا ہے،سندھ حکومت ہمیشہ بلوچستان کا پانی چوری کرتی رہی ہے،انکے جو ریگولیٹرز ہیں  وہ  ہمارے ریگولیٹرز سے ڈیپ اسی لیے ہیں کہ زیادہ پانی  انکی طرف جائے۔

غیر قانونی پمپنگ اسٹیشنز لگا کر  کر بھی پانی سندھ  کے مختلف علاقوں میں لے جایا جاتا ہے،1000 کیوسک پانی  جو ہمارا زیادہ تر چوری  ہوجاتا ہے اس کی وجہ سےصوبے کی  76 ہزار ایکڑ   سے زیادہ اراضی غیر آباد رہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کا پانی بڑھ گیا ہے تو ہمیں ،ہمارے  حصے کا مکمل پانی فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما ایڈوکیٹ علی پلھ پر پانی چوری کی ایف آئی آر کٹ گئی،ایڈووکیٹ علی پلھ نے فریال تالپور  کی زمینوں پر نہر کی ویڈیو بنائی تھی جس پر انہیں  شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایڈووکیٹ علی پلھ نے وی وی آئی پی کلچر ،آباد کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک اور پانی کی مصنوعی قلت پر احتجاج بھی کیا تھا۔

فریال تالپور کی بلغار نہر

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ سہیل انور سیال پانی چوروں کے سرغنہ بنے ہوئے ہیں، ٹنڈو الہ یار میں 11 نہریں  بند کر کے فریال تالپور کی بلغار نہر چلائی جارہی ہے جہاں ضرورت سے زیادہ پانی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان  کو پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ بجلی کی قلت کا بھی سامنا ہے اور اسی کی وجہ سے  آج کوئٹہ میں سریاب روڈ پر شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں کئی کئی گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے  معمولات زندگی شدید متاثر ہورہے ہیں اور ٹرپنگ کی وجہ سے الیکٹرونک کا سامان بھی برباد ہورہا ہے اور کیسکو حکام کو شکایت کی جائے تو زبانی تسلی کے علاوہ کوئی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔

Back to top button