شکار پور آپریشن تاحال تعطل کا شکار

شکار پور کے کچے کے علاقے گڑھی تیغو میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن  10 ویں روز بھی تعطل کا شکار ہے۔

شہریوں کو اغواء کرنے اور تین پولیس کے اہلکاروں کو شہید کرنے والے  ڈاکو تاحال گرفتار نہ کیے جاسکے۔

 ذرائع کے مطابق نو تعینات ایس ایس پی شکار پور تنویر تنیو نے اب تک ڈیوٹی جوائن نہیں کی ہے جس کے کی وجہ سے شکارپور میں آپریشن میں شامل جوان کیمپ میں بند ہیں اور کچھ مورچوں میں ہی موجود ہیں ۔

کراچی سے آئے ہوئے ایس ایس یو کمانڈوز بھی بیس کیمپ تک ہی محدود ہیں،منگوائی گئی اینٹی ایئر کرافٹ گنز اور اسنائیپر گنز بھی اب تک استعمال میں نہ آسکیں ہیں ۔

ایک بہت بڑی تعداد میں موبائل گاڑیاں اور دوسری دفاعی سواریاں جیسے بکتر بند وغیرہ بیس کیمپ پر  کھڑی ہیں ،اے پی سی کیمپ بھی وہاں موجود ہیں لیکن  ڈسٹرکٹ کمانڈر نہ ہونے کے باعث آپریشن تعطل کا شکار ہے۔

کچے کے دریا میں پانی

اہم بات یہ ہے کہ  آئندہ دو سے تین دن تک کچے کے دریا میں پانی آنے والا ہے  اور اگر یہ پانی آگیا تو اے پی سی چین کی نقل وحرکت بہت محدود ہوجائے گی اور پولیس کے جوان کچے میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔

مزید ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر متوقع صورتحال ہوگئی تو تین سے چار مہینے کے لیے یہ آپریشن مزید تعطل کا شکار ہوجائے گا۔

دوسری جانب ڈی جی خان میں لادی گینگ کے خلاف آپریشن میں ہفتے کے روز گینگ کے سرغنہ کے داد اللہ بخش لادی کو گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن سرغنہ خدا بخش ،ماسٹر مائنڈ موسی چاکرانی اور اہم کارندے تاحال فرار ہیں۔

خدا بخش اور موسی چاکرانی کے  لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی جس میں  سے چوبیس سے زائد گھنٹے گزر چکے ہیں ،آر پی او نے آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جرائم پیشہ افراد فرار نہ ہونے پائیں ۔

مشترکہ آپریشن میں رینجرز،پولیس اور سی ٹی ڈی کے 550 جوان شریک ہیں،آپریشن میں ڈرون کیمروں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button