شوکت ترین کی آئی ایم ایف کی شرائط پر تنقید

نومنتخب وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر پاکستان کو بجلی کے نرخوں میں اضافے پر مجبور کرنے پر تنقید کی اور اسے "ناانصافی” قرار دیا ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ، محصول اور اقتصادی امور کے اجلاس میں شوکت ترین نے عالمی مالی قرض دہندہ کے بارے میں بات کی، اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین فیض اللہ کاموکا نے کی ۔

وزیر خزانہ نے کہا "آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی ، بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مطالبہ بلا جواز ہے ،” انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اضافے نے معیشت کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے اور بدعنوانی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

قومی خزانے کے وزیر نے قانون سازوں کو ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا اور کہا کہ اگر موجودہ حکومت جی ڈی پی کی نمو کو 5 ٪ فیصد تک لے جانے کے قابل نہیں ہے تو ، ملک اگلے چار سال تک خدا کے رحم و کرم پر ہوگا، آئی ایم ایف کو صورتحال کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

محصولات میں اضافہ افراط زر میں اضافے کا باعث ہے، وزیر  خزانہ نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ ہم سرکلر ڈیٹ کو کم کردیں گے لیکن ٹیرف میں اضافہ بے مقصد ہے حکومت کو ان تمام اداروں کی نجکاری کرنی چاہئے جو وہ چلانے سے قاصر ہیں،” انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت پر بہت کم رقم خرچ کی جاتی ہے ۔

شوکت ترین نے 17 اپریل کو ملک کے نئے وزیر خزانہ کی حیثیت سے حلف لیا تھا ، جب انہوں نے وفاقی وزیر حماد اظہر کی جگہ لی ، جو ابھی ایک ماہ سے بھی کم عرصے سے ملازمت پر تھے۔

Back to top button