شرمین چنائے کا آسکر اور ڈی جی رینجرز

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چوہدری کا  ایک تقریب سے خطاب میں کہنا ہے کہ لندن میں  چاقو مارنے کے 800کیس ہوئے کسی کو کان وکان خبر نہ ہوئی اور پاکستان میں تیزاب پھینکنے کے 3 کیس ہوئے اس پر فلم بھی بن گئی اور  فلم  بنانے والی شرمین عبید چنوئے کو آسکر بھی مل گیا۔

انکا کہنا تھا کینیڈا میں پچھلے دنوں پورے خاندان کو قتل کیے جانے کے واقع سے ہر کوئی واقف ہے اور اسکے بعد پرسوں ہی کینیڈا میں ایک مسلمان آدمی کے ساتھ تشدد کیا گیا،اسکی داڑھی کاٹ دی گئی ۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر یہی کام کراچی میں ہوتا تو کراچی سب سے زیادہ خطرناک شہر قرار دے دیا جاچکا ہوتا،تو اس سے پتا چلتا ہے کہ ہمیں  مغرب کے بنائے گئےایک تاثر کے باعث بھی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔

میجر جنرل نے کہا کہ برطا نیہ کی ایک شائع کردہ رپورٹ کے مطابق لندن میں 800 سے زائد  تیزاب اور زہریلا مواد پھینکنے کے  کیسز ریکارڈ ہوئے ،انہوں نے سوال کیا کہ کیا  اس بات کا تذکرہ آپکو میڈیا پر دیکھنے کو ملا  بلکہ رپورٹ  پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

 اسی طرح برطانیہ میں پچھلے سال کے دوران 10 ہزار سے زیادہ چاقو مارنے کی  وارداتیں ہوئی ہیں ،کسی کو اس بارے میں خبر نہیں ،نہ ہی اس بات کی تشہیر کی گئی بلکہ آپکی اور دنیا کی نظروں میں لندن ابھی بھی ایک محفوظ ملک ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button