اتر پردیش میں مسجد شہید

بھارت کے  صوبہ اتر پردیش کے علاقے باراں بانکی  کی ضلعی انتظامیہ نے پیر کو رام سنیہہ گھاٹ پر  واقع غریب نواز المعروف نامی ایک 100 سال قدیم مسجد کو شہید کردیا اور کہا کہ یہ سرکاری اراضی پر تعمیر شدہ ایک غیر مجاز ڈھانچہ ہے۔

بھارت کے  صوبہ اتر پردیش کے علاقے باراں بانکی  کی ضلعی انتظامیہ نے پیر کو رام سنیہہ گھاٹ پر  واقع غریب نواز المعروف نامی ایک 100 سال قدیم مسجد کو شہید کردیا اور کہا کہ یہ سرکاری اراضی پر تعمیر شدہ ایک غیر مجاز ڈھانچہ ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سٹی صدر اور باراں بانکی کے رہائشی مولانا ایاز احمد نے بتایا کہ یہ ایک پرانی مسجد تھی اور یہ آزادی کے دور سے ہی موجود تھی،یہ کوئی نیا ڈھانچہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "تجاوزات کے نام پر  مساجد کو شہیدکرنا قابل قبول ہے،میں نے خود وہاں نماز ادا کی تھی ،   یہ ایک قدیم تعمیر شدہ مسجد تھی”انہوں نے رپورٹر کو بتایا۔

پیر کے روز پولیس اور ضلعی عہدیداروں کے ساتھ ہزاروں پولیس اہلکاروں نے مسجد کا محاصرہ کیا اور مسلمانوں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے نقل و حرکت پر پابندی لگادی ۔

باراں بانکی ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر آدرش سنگھ نے کہا کہ کارروائی عدالت کے حکم کے مطابق کی گئی، کوئی مسجد نہیں تھی، یہ غیرقانونی ڈھانچہ تھا جہاں سماج دشمن عناصر ٹھہرے ہوئے تھے

انہوں نے مزید کہا  کہ "انتظامیہ نے جو کچھ کیا وہ قانون کے مطابق اور عدالتی حکم کے مطابق کیا”۔

ایک مقامی عالم دین مولانا عبد المصطفٰی نے بتایا کاروائی  کے مقام پر پولیس کے دستےپہنچنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے انہدام کی مخالفت کرنے آئے لوگوں کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

قدیم مسجد

انہوں نے کہا  کہ "ہم نے وہاں کھڑے ہوکر دیکھا کہ 100 سال سے زائد قدیم مسجد کو شہیدکیا جارہا  تھا اور اسکے بعدمسجد کا ملبہ ندی میں پھینک دیا گیا ۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے 15 مارچ کو مسجد کمیٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں ان سے  مسجد کی تعمیر اور قانونی حیثیت سے متعلق وضاحت فراہم کرنے کے لئے کہا گیا تھا اور سرکاری اراضی پر غیر قانونی تعمیر کے انہدام  سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔

مسجد کمیٹی نے انتظامیہ کو جواب بھجوایا کہ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 31 مئی تک کوئی مسجد شہید یا  کسی مسجد انتظامیہ کے فرد کوبے دخل نہ کیا جائے۔

 مسجد کمیٹی کاکہنا تھااس سال ہمیں بجلی کا کنکشن مل گیا اور اس بل نے ہماری بات ثابت کردی ہے، پھر انتظامیہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ مسجد سرکاری اراضی پر بنائی گئی ہے اورمسجد ٹریفک کی روانی میں بھی رکاوٹ نہیں ہے جیسا کے جواز دیا جارہا ہے۔

چیئرمین اتر پردیش سنی مرکزی وقف بورڈ ظفور احمد فاروقی نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ اقدام ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ”باراں بانکی انتظامیہ کی اس من مانی کارروائی کے خلاف بورڈ ہائی کورٹ میں رجوع کرے گا”۔

ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی 3 اپریل 2021 کو رام سنیہہ گھاٹ کی ایس ڈی ایم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کی گئی تھی جس میں عدالت نے اعتراف کیا ہے کہ ڈھانچہ غیر قانونی تھا ،اپنے حکم میں عدالت نے کہا  ہے کہ "پولیس تجاوزات کو ختم کروائیں”اور ہم نے حکم کی تعمیل کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button