شہباز شریف کی پیشی، نیا کیس کھل گیا

قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف منگل کے روز 25 ارب روپے کی مبینہ  منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی ایک تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔

ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی کے سرکل نے15 جون کو مسلم لیگ (ن) کے صدر کو ایک نوٹس جاری کیا  تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ تفتیشی افسران  کے سامنے پیش ہوں۔

منگل کے روز (کل)شہباز  شریف ایف آئی اے پنجاب زون 1 کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان کی سربراہی میں   پانچ رکنی ٹیم کے روبرو حاضر ہوئے۔

ٹیم نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے قریب ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی جس کے اختتام پر شہباز شریف صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے بغیر اپنی رہائش گاہ لوٹ گئے۔

ایجنسی نے شہباز  شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کو بھی طلب کیا ہے  جو جمعرات کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے۔ ایک دن پہلے ہی ایک اضافی منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنماؤں کی ضمانت  قبل از گرفتاری  کی درخواست منظور کی تھی۔

شہباز شریف کے جوابات

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے تفتیش کار افسران شہباز شریف کے جوابات سے مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے ایک بار پھر انہیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما نے ایف آئی اے حکام سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ منگل کو ہونے والی تفتیش کا مواد میڈیا کے سامنے ظاہر نہ کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز اور ان کے بیٹے کو دی گئی عبوری ضمانت میں واضح طور پر یہ بتایا گیا  ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو جب بھی طلب کیا جائے تو  انکو تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔

ایف آئی اے نے شہباز شریف اور انکی فیملی  کے افراد پر رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کے لئے کام کرنے والے ملازمین کے بینک کھاتوں کا استعمال کرتے ہوئے تقریبا25 ​​25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ  کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق شہباز  شریف اور انکی  فیملی کے افراد نے شوگر ملوں میں ملازمین کے چپڑاسی ، کلرک ، کیشیئر اور گودام منیجرز کے 20 بینک کھاتوں کا استعمال کرتے ہوئے رقم لانڈر کی۔

مقصود نام کے ایک چپڑاسی کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ تقریبا 2 ارب 70 کروڑروپے منی لانڈر کیے گئے ، اور ایک اور ملازم حاجی نعیم کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے تقریبا2 ارب 80 کروڑروپے لانڈر کیے گئے۔

کرنسی نوٹوں سے بھری بوریاں

ایف آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک اور ملازم کے نام پر تقریباڈھائی ارب روپے لوٹے گئے جبکہ اسلم کے ایک اور چپڑاسی کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے تقریبا1 ایک ارب 75 کروڑروپے لوٹےگئے۔  تفتیش کاروں نے الزام عائد کیا کہ کلرکس اظہر اور غلام شبیر حیات کے اکاؤنٹس استعمال کرکے تقریبا4 ساڑھے چار ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ متعدد دیگر ملازمین  مثلاًقیصر عباس ، اکبر ، اقرار ، انور ، یٰسین ، غضنفر ، توقیر ، ظفر اقبال ، کاشف مجید اور مسرور انور کے بینک اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے تھے۔

ایف آئی اے نے شریف گروپ آف کمپنیوں کے چیف فنانشل آفیسر پر تمام منی لانڈرنگ کی نگرانی کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کے کیمپ آفس کورقم جمع کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور کرنسی نوٹوں سے بھری بوری ان کے بیٹے سلیمان شہباز کے دفتر پولیس پروٹوکول کے تحت پہنچا دی جاتی تھی۔

 ایف آئی اے نے الزام لگایا کہ بعد میں یہ تمام رقم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعہ بیرون ملک بھیجی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button