شہباز شریف کا ایف آئی اے پر الزام

اربوں کی پراپرٹی کا جواب بیگم سے اور کاروبار میں اضافے  کا بیٹے سلمان شہبازسے معلوم کریں۔25 ارب کی ٹرانزیکشن کا جواب وکیل دیں گے۔شوگر اسکینڈل میں شہباز شریف نے 25 میں سے ایک سوال کا بھی جواب نہ دیا۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے شریف خاندان کی شوگر ملوں کی ملکیت کے ذریعہ 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف اب تک کی گئی تحقیقات کی ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے۔ رپورٹ جلد عدالت میں پیش کی جائے گی۔

ذرائع  کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے کل 25 سوالات پوچھے ، جن میں سے وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

سوال انکی بیویوں سے کریں

ذرائع نے بتایا کہ جب تفتیش کاروں نے ان سے اربوں روپے مالیت کی ان کی جائیدادوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے افسران سے کہا کہ یہ سوال انکی بیویوں سے کیے جائیں ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کاروبار میں تیزی سے اضافے کے بارے میں بھی ایک سوال کا رخ یہ کہتے ہوئے اپنےبیٹے سلمان شہباز کی طرف موڑ دیا کہ اس بارے میں معلومات ان سے لی جائیں۔

ایف آئی اے ایک یا دو دن میں متعلقہ عدالت میں رپورٹ پیش کرے گی۔ رپورٹ کی ایک کاپی وزیر اعظم کے احتساب سے متعلق  مشیرشہزاد اکبر کو پہلے ہی فراہم کردی گئی ہے۔

شہباز  شریف نے 10 جولائی کو پیشی کے دوران ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم پر ہراساں کرنے اور بد سلوکی کرنے کا الزام لگایا تھا۔

شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس میں اپنے بیٹے حمزہ شہباز کے ہمراہ لاہور کی عدالت میں پیش ہوئے اور شکایت کی کہ وہ بیان ریکارڈ کروانے کے لئے جب ایف آئی اے کی ٹیم  کے سامنے پیش ہوئے  تو  ٹیم نے  انہیں ہراساں کیا اور بدتمیزی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "مجھے ایف آئی اے کے دفتر بلایا گیا جہاں تفتیش کاروں نے مجھ سے بدتمیزی کی”۔”انہوں نے مجھ سے غیر مناسب بات کی اور جب میں نے انہیں روکا تو انہوں نے میرا مذاق اڑایا”۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button