یوم سمندر

ہماری زمین کا 70 فیصد  حصہ پانی پر مشتمل ہے اور  پانی سمندری دنیا کے اندر اور باہر زندگی کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی آلودگی، ماہی گیری کی سرگرمیوں اور مواصلاتی ذرائع   کی بحتاط نے  سمندری زندگی کو خطرہ میں ڈال دیاہے ۔کرہ ارض کے بہتر مستقبل کے  لیے  نظام زندگی میں توازن کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔

عالمی یوم سمندر  پراقوام متحدہ نے سمندری زندگی کو لاحق خطرات سے نمٹنے اور سمندر میں  بڑھتی ہوئی آلودگی کو روکنے کے لیے پائیدار کوششوں کا مطالبہ کیا ہے ۔

اس سال کا موضوع "سمندر : زندگی اور ذریعہ معاش” ہے،اقوام  متحدہ کی ویب سائٹ نے کہا کہ اس سال کا ایونٹ اس بات پر مرکوز ہوگا کہ سمندر کیسے انسانی زندگی کی بقا اور اسکو معاش فراہم کرنے میں مددگار ہے۔

اقوام متحدہ کی دس سالہ  بحری سائنس اور پائیدار ترقی کی کانفرنس بھی  2021 سے 2030  کے دوران ہوگی اور اس وجہ سے بھی اس سال کا موضوع اس  کانفرنس کے موضوع سے  مطابقت رکھتا ہے۔

اس  دس سالہ کا نفرنس کامقصد جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرکے  اور سائنسی تحقیق کی ابتداء کرکے سمندری نظام میں توازن بحال کرنے کے لئے بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنا  ہوتا ہے، جو بحری سائنس کو معاشرے اور اس کی ضروریات سے مربوط کرسکے۔

عالمی یوم سمندر منانے کا مقصد

یہ دن اس بات کی یاد دہانی کے طور پرمنایا جا تا ہے کہ کس طرح  سمندر میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے سے لے کر  بحری جہازوں سے ہونے والے تیل کےاخراج تک ،ان  تمام لاپرواہ سرگرمیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہےاور کس طرح سمندروں کے پائیدار انتظام کی بدولت ہم  انسانی زندگی کے لیے آب و ہو،خوراک ا  و رمعاش کےاس بہترین  ذریعےکو بچا سکتے ہیں۔

عالمی یوم سمندر  کی تاریخ

عالمی یوم بحر  کا نظریہ انسٹی ٹیوٹ آف کینیڈا نے 1992 میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس برائے ماحولیات اور ترقی میں تجویز کیا تھا۔

سنہ 0 200 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس تجویز کی منظوری دی تھی اور 8 جون کو سمندروں  کا  دن قرار دینے کی قرارداد منظور کی تھی ۔ جبکہ عالمی یوم ماحولیات تین دن قبل 5 جون کو منایا جاتاہے۔

یہ دوسرا سال ہے جب کویوڈ – 19 وبا کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذریعہ اس دن کو ورچوئل پلیٹ فارم پر منایا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button