جنوبی افریقہ میں فسادات 72 ہلاک

جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیکب زوما کی توہین عدالت کیس کی سماعت گزشتہ روز ہوئی۔  89 سالہ زوما  نے جمعرات کو توہین عدالت کے جرم میں سنائی گئی  15ماہ کی سزا کاٹنے کے  لیےگرفتاری دی تھی۔

زوما جو کہ 2009 سے 2018 تک صدر تھے ، انہوں نے بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والی سرکاری انکوائری میں گواہی دینے کے عدالتی حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سابق صدر  جیکب زوما کی گزشتہ ہفتے گرفتاری کے بعد ان کے ہامی آپے سے باہرہوگئے،مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔

کئی شاپنگ مالز اور گاڑیاں نذر آتش ہوچکی ہیں  جبکہ بلوائیوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار تاحال جاری ہے۔مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیےفوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔

دستی بم اور ربڑ کی گولیاں

منگل کے روز جنوبی افریقہ میں فسادات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 72 ہوگئی ہے، اے ایف پی کے مطابق ، ایک مال میں لوٹ مار کے دوران 10 افراد ہلاک ہوگئے، پولیس اور فوج نے بدامنی کو روکنے کے لئے دستی بم اور ربڑ کی گولیوں سے فائر کیا۔

حکام نے بتایا کہ گاؤتینگ اور کوزو زو نٹل صوبوں میں ہزاروں افراد کے دکانوں سے کھانا ، بجلی کے سازوسامان ، شراب اور کپڑے چوری کرنے کے دوران  افراتفری  میں بہت ساری اموات ہوئی ہیں ۔

بدامنی نے ان دونوں صوبوں کے بستی والے علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات کو جنم  دےدیا ہے تاہم یہ جنوبی افریقہ کے دیگر سات صوبوں تک نہیں پھیل سکا  ہے، جہاں پولیس چوکس ہے۔

گوئینگ صوبے کے وزیر اعظم ڈیوڈ مکھورا نے کہا  ہے کہ جرائم پیشہ عناصر نے ان صوبوں کو ہائی جیک کرلیا ہے  ، جس میں جوہانسبرگ بھی شامل ہے۔

سینکڑوں افراد  کو قانون شکنی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے ،جنہوں نےدو صوبوں کے غریب علاقوں میں ہنگامہ برپا کیا  ہواہے۔ ان افراد نے  ایک کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کو منگل کے روز توڑ دیا تھا اور زبردستی ٹرانسمیشن بند کرادی تھی اور کوویڈ 19 کے کچھ ویکسی نیشن مراکز   بھی بند کرادیئے تھے جس کی وجہ سے فوری طور پر ضروری ٹیکوں کو روکنا پڑا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button