کچھ ملکوں کے گھٹنے پکڑنے کا انکشاف

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بعض ملکوں کےگھٹنوں کو ہاتھ لگایا خدارا آپ یہ پلانٹس پاکستان میں  لگائیں،ہمارے پاس تو  پیسے ہی نہیں تھے۔

گھٹنوں کو ہاتھ لگایا پاکستان کی عوام کےلیے۔نیب نیازی گھٹ جوڑ دن رات کوششیں کرتا رہا  ،تین سال اس معاملے کی تحقیقات کرتا رہا  مگر ایک دھیلے کی کرپشن سامنے نہیں آئی ان پاور پروجیکٹس میں۔

حکومت کی جانب سےکئی بار کہاگیا کہ پی ایم ایل این کے زمانے میں اضافی بجلی پیدا کی گئی ،کمیشن اور کک بیگس کے لیے۔شہباز شریف نے سوال کیا کہ اگر بجلی فالتو تھی تو اب یہ لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟۔

ایک بات طے ہے گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ لیکن عمران خان نیازی لوڈ شیڈنگ کا گزرا ہوا زمانہ واپس لے آیا،کنٹینر پر کھڑے ہوکر سستی بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ  یہ لوگ مہنگی بجلی پر ایک تو یہ جواب دیتے ہیں  کہ کپیسٹی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے سوال کیا کہ مسلم لیگ نے اگر اضافی بجلی بنائی تھی تو ملک میں لوڈ شیڈنگ کیوں کی جارہی ہے۔

اپوزیشن کے جوابات

دوسرا  جواب یہ دیتے ہیں کہ بجلی اضافی ہے لیکن ترسیل کے لیے ٹرانسمیشن لائن نہیں ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے جو ترسیلی لائنیں ڈالیں تھیں انہوں نے اس میں کچھ اضافہ نہ کیا۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ عوامی خدمت کے بدلے میں شاباش ملنے کے بجائے دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

شہباز شریف نے دعوی کیا کہ حکومت نے گیس کے مہنگے ترین معاہدے کیے،کوویڈ کے دوران گیس سستی تھی لیکن مافیا کو نوازنے کے لیے معاہدہ نہیں کیا گیا۔

سبزی مہنگی ہوگئی ،غریب کی دسترس سے باہر ہوگئی،ایک کلو چینی کی قطاریں لگتی ہیں،آٹا آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور 5 کروڑ افراد ان 3 سالوں میں خط افلاس سے نیچے جا چکے ہیں۔

پچاس لاکھ گھر بنانا تو بہت دور کی بات ہے ایک اینٹ نہیں لگائی۔خواب  خرگوش سے جاگیں ،ہم نے اپنے اطوار نہ بدلے،خود کو ٹھیک نہ کیا تو  خدانخواستہ اس ملک میں خونی انقلاب آجائے گا اور پھر کچھ نہیں بچے گا ،ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

شہباز شریف نے  پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک شعر بھی کہا

خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہیے۔۔اس نظام زر کو اب برباد ہونا  چاہیے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button